غزہ سے فلسطینیوں گروپ کی دوسرے ملک منتقلی متعلقہ ملک کی منظوری کےبعد کی گئی ہے: اسرائیل
جنوبی افریقہ جانے والے فلسطینیوں کو ایک تیسرے ملک کی حمایت حاصل تھی۔ اس امر کا اظہار اسرائیلی حکام نے ہفتہ کے روز کیا ہے۔
اسرائیلی ادارے 'کوگیٹ' کے ترجمان شیمی زاورٹز نے مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا 'کوگیٹ' نے 153 فلسطینیوں کو غزہ سے جانے کی اجازت اس وقت دی جب ایک تیسرے ملک کی طرف سے ان کی آپنے ہاں آنے کی حمایت کی گئی اور انہیں اپنے ہاں قبول کرنے کی منظوری دی۔ تاہم 'کوگیٹ' کے ترجمان نے اس ملک کا نام لیے بغیر یہ بات کہی ہے۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کی سرحدی پولیس نے کہا ہے کہ جوہنسبرگ پہنچنے والے فلسطینیوں کو طیارے میں ہی رکھا گیا کیونکہ ان کے پاسپورٹ پر اسرائیل سے روانگی سے متعلق معلومات نہیں تھیں۔ سرحدی پولیس کے مطابق ان فلسطینیوں کو 12 گھنٹے تک طیارے میں ہی سوار رکھا گیا تھا۔
تاہم بعدازاں ان فلسطینیوں کو وزارت داخلہ کی طرف سے جنوبی افریقہ میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ جب این جی او کی طرف سے انہیں رہائشی سہولیات کی فراہمی کا کہا گیا۔
جنوبی افریقہ کے مقامی میڈیا کو 'گفٹ آف گیورز' نامی این جی او نے بتایا کہ فلسطینیوں کی آمد اور ان کی پرواز کے متعلق کسی قسم کی معلومات نہیں تھیں۔
اسرائیلی ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا جس تنظیم نے فلسطینیوں کی روانگی اور منتقلی کو مربوط کیا تھا اس نے ایک ملک کے ویزے 'کوگیٹ' کو جمع کرائے تھے۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ایسا لگتا کے کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ ان فلسطینیوں کو پراسرار انداز سے جہاز میں سوار کیا گیا اور نیروبی کے راستے یہاں لایا گیا۔
جنوبی افریقہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 130 فلسطینی جنوبی افریقہ میں داخل ہوئے ہیں جبکہ 23 فلسطینی دیگر ملکوں کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔
جنوبی افریقہ فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے اور غزہ میں اسرائیلی جنگ میں اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب سمجھتا ہے۔