کیا مصنوعی ذہانت انسان کے خیالات پڑھ سکتی ہے؟… سائنس کا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

گزشتہ دو دہائیوں میں انسانی دماغ اور الیکٹرانک آلات کو آپس میں جوڑنے والی ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ اس تکنیک کی مدد سے معذور افراد مختلف آلات کو دور سے کنٹرول کر سکتے ہیں، جیسے مصنوعی اعضا خصوصی کمپیوٹر یا آواز پیدا کرنے والی ڈیوائسز جو اُن لوگوں کے لیے بولنے کا ذریعہ بنتی ہیں جو بولنے کی صلاحیت کھو چکے ہوں۔

اس ٹیکنالوجی کو برین کمپیوٹر انٹرفیس (Brain Computer Interface) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بیرونی ڈیوائس یا دماغ کی حرکی قشر پر نصب ایک الیکٹرانک چِپ کے ذریعے کام کرتی ہے۔

اس کا مقصد دماغ سے پیدا ہونے والے برقی سگنلز کو پڑھ کر اُنہیں الیکٹرانک آلات کے لیے قابل فہم احکامات میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ مریض مختلف ڈیوائسز کو اپنے خیالات کے ذریعے کنٹرول کر سکیں۔

محققین کے مطابق بعض اوقات یہ ٹیکنالوجی اپنی اصل حد سے آگے بڑھ کر ایسے خیالات بھی پڑھ سکتی ہے ،جو صارف کے ذہن میں بلا ارادہ آ رہے ہوں۔

اعصابی امراض کے ماہر ریچرڈ اینڈرسن (کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کا کہنا ہے کہ جب برین کمپیوٹر انٹرفیس کے آلات دماغ کے پیریئٹل لوب پر نصب کیے جاتے ہیں تو یہ دماغ کے کئی حصوں سے اعصابی سگنلز وصول کرتے ہیں۔ اس طرح بے شمار سگنلز جمع ہو جاتے ہیں جنہیں یہ آلات بآسانی ڈی کوڈ کر سکتے ہیں۔

محققین کا خیال ہے کہ ایسے آلات کی صلاحیت انسان کے اندرونی خیالات تک رسائی حاصل کرنے میں اخلاقی خدشات کو جنم دیتی ہے، خصوصاً جب یہ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت (AI) کے ساتھ جوڑی جائے۔

اے آئی سے چلنے والے یہ سسٹم بیرونی طریقے سے دماغی سگنلز پڑھنے والی ڈیوائسز کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا دیتے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر ان آلات پر مضبوط ریگولیشن نہ لگائی گئی تو ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کے ذہنی ردعمل اور احساسات سے متعلق انتہائی تازہ اور درست معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گی۔

نیویارک کی کمپنی سِنکرون کے سی ای او ٹوم اوکسلی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی بنیاد ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے علاج کی ضرورت کے باعث دماغ کے مزید حصے بھی تحقیق اور پڑھنے کے لیے ان جدید آلات کے ذریعے قابلِ رسائی بنا دیے جائیں گے۔

اس نئی ٹیکنالوجی کو محفوظ کیسے بنایا جائے؟

یہ سوال اب سب کے سامنے ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کو محفوظ کیسے بنایا جائے۔ سائنسٹفک امریکن کے مطابق مصنوعی ذہانت مسلسل دماغی سگنلز کے ڈی کوڈنگ کے عمل کو بہتر بنا رہی ہے اور صارف کی سہولت کے لیے کام کر رہی ہے، لیکن یہ ہمیں اسی بات کی طرف لے جاتی ہے کہ آخرکار: اس ٹیکنالوجی کو کس طرح محفوظ بنایا جائے؟

موجودہ صارفین کے لیے دستیاب آلات دماغ کے اعصابی سگنلز کو ریکارڈ کرتے ہیں، جیسے کہ بریسلیٹس، ہیڈ فونز یا الیکٹروڈ والے ہیلمٹس۔ اگرچہ یہ آلات دماغ کے مکمل خیالات کو ڈی کوڈ نہیں کر سکتے، مگر یہ عمومی معلومات فراہم کرتے ہیں جیسے کہ توجہ، تھکن یا ذہنی دباؤ کی سطح۔ کچھ کمپنیاں یہ معلومات صارف کو دیتی ہیں تاکہ وہ اپنی کارکردگی، ورزش، مراقبہ یا پیداوری بڑھا سکے۔

جرمنی کی میونخ یونیورسٹی کے نیوروسائنس اخلاقیات کے ماہر مارسیلو اینکا کے مطابق، مستقبل میں مصنوعی ذہانت انسان کے ذہنی عمل کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت دے سکتی ہے۔ دماغی برقی سگنلز کی باریک تبدیلیاں جو لمحوں میں ظاہر ہوتی ہیں، AI کے ذریعے توجہ اور فیصلہ سازی کی سطح کو ظاہر کر سکتی ہیں۔

اینکا کی تحقیق 2018 میں یہ بتاتی ہے کہ زیادہ تر دستیاب برین کمپیوٹر انٹرفیس آلات محفوظ ڈیٹا چینلز استعمال نہیں کرتے اور نہ ہی پرائیویسی کے جدید معیارات پر عمل کرتے ہیں۔ اینکا کا کہنا ہے: یہ صورتحال آج تک بدلی نہیں ہے۔

2024 میں نیورو رائٹس نامی غیر منافع بخش تنظیم نے نیویارک میں 30 کمپنیوں کی تحقیق کی جو صارفین کے اعصابی سگنلز ماپنے والے آلات بناتی ہیں۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان کمپنیوں کے پاس ڈیٹا پر مکمل کنٹرول ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ اسے بیچ سکتی ہیں یا کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

اس حوالے سے کچھ ممالک جیسے چلی اور امریکہ کی چار ریاستوں نے قوانین بنائے ہیں جو ڈیٹا ریکارڈنگ کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں، مگر اینکا اور نیٹا فرہانی (ڈیوک یونیورسٹی) کا خیال ہے کہ یہ قوانین ناکافی ہیں کیونکہ یہ صرف خام ڈیٹا پر مرکوز ہیں، نہ کہ تجزیاتی ڈیٹا پر جو AI اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔ اس تجزیاتی ڈیٹا کو تیسرے فریق کو بیچنا یا شخص کے خلاف استعمال کرنا ممکن ہے۔

اینکا کے مطابق ڈیٹا اکنامی واقعی پرائیویسی اور علمی آزادی کی خلاف ورزی کا سبب بن چکی ہے، اور انسانی اعصابی ڈیٹا کی دستیابی اسے مزید خطرناک بنا دیتی ہے، جیسے کہ ڈیٹا اکنامی کو اضافی طاقت دینا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں