آسٹریلیا نے نازی علامت کی نمائش پر برطانوی شہری کا ویزا منسوخ کر دیا

بونڈائی بیچ حملے کے بعد ملک میں قوانین میں تبدیلی جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

آسٹریلیا نے ایک برطانوی شہری کا ویزا منسوخ کر دیا جس پر ممنوعہ نازی علامت ظاہر کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، امیگریشن کے وزیر نے بدھ کے روز کہا۔ بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے بعد سے آسٹریلیا یہود دشمنی کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔

آسٹریلوی وفاقی پولیس کے مطابق حکومت نے ایک 43 سالہ شخص کا ویزا منسوخ کر دیا جس پر آٹھ دسمبر کو نازی علامت ظاہر کرنے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہودی برادری کے خلاف تشدد کی وکالت کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

وزیرِ داخلہ ٹونی بیرک نے برطانوی شہری کے حوالے سے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کو بتایا، "اگر آپ ویزا پر آسٹریلیا آتے ہیں تو آپ یہاں مہمان ہوتے ہیں۔ اگر کوئی یہاں نفرت کے مقصد سے آتا ہے تو وہ جا سکتا ہے،" انہوں نے کہا۔

بیرک اور وفاقی پولیس نے برطانوی شخص کا نام نہیں لیا لیکن وفاقی پولیس نے کہا کہ اس نے نازی ہیکن کریوز - ایک قسم کا سواستیکا - ظاہر کیا اور اکتوبر سے نومبر تک دو ایکس اکاؤنٹس سے "یہودی برادری کے لیے مخصوص نفرت کے حامل نازی حامی نظریے" کی حمایت کا اظہار کیا۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ریاست کوئنز لینڈ کے رہائشی کا ویزا منسوخ ہونے کے بعد اسے امیگریشن حراست میں لے لیا گیا اور اگر وہ رضاکارانہ طور پر پہلے وہاں سے نہ چلا جائے تو ملک بدر کر دیا جائے گا۔

بونڈائی بیچ فائرنگ پر حکومت کے ردِ عمل اور یہود دشمنی کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کے ایک حصے کے طور پر بیرک نے کہا کہ وہ کسی شخص کے یہود دشمن اقدامات کو غیر قانونی قرار دینے کی قانونی حد کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پہلے کہا ہے کہ سام دشمن گروہ آسٹریلوی برادری کے معیارات کی خلاف ورزی کرتے وقت مجرمانہ الزامات سے بچنے کے لیے اپنی زبان میں احتیاط برتتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویزہ کی منسوخی کے لیے حکام کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی شخص کے اعمال کا کمیونٹی پر نقصان دہ اثر ہوا لیکن "نفرت انگیزی کافی ہونی چاہیے"۔

بیرک نے اے بی سی کو بتایا، "ہمیں صرف اسی بنیاد پر ویزا منسوخ کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔بالکل اسی نوعیت کی ویزا منسوخی کرنے کی غرض سے میرے اختیارات میں اضافہ کرنے کے لیے قانون سازی ہو گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں