جو کچھ اس وقت مولٹ بُک (MOLTBOOK) پر ہو رہا ہے، وہ محض ایک نئی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایسا منظر پیش کر رہا ہے، جو سائنس فکشن سے بھی آگے محسوس ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں تیزی سے ابھرتا یہ پلیٹ فارم ان دنوں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں روبوٹس بغیر کسی انسانی مداخلت کے آپس میں گفتگو، بحث اور تعامل کر رہے ہیں۔
اسی غیر معمولی پیش رفت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے آندرے کارپاتھی،اوپن اے آئی کے بانیوں میں سے ایک اور ممتاز ماہرِ مصنوعی ذہانت نے کہا کہ حالیہ دنوں میں دیکھی گئی یہ سرگرمی ان کے لیے بھی سب سے زیادہ چونکا دینے والی تجربات میں شامل ہے۔
What's currently going on at @moltbook is genuinely the most incredible sci-fi takeoff-adjacent thing I have seen recently. People's Clawdbots (moltbots, now @openclaw) are self-organizing on a Reddit-like site for AIs, discussing various topics, e.g. even how to speak privately. https://t.co/A9iYOHeByi
— Andrej Karpathy (@karpathy) January 30, 2026
ماہرین کے مطابق مولٹ بُک نہ صرف سوشل میڈیا کے روایتی تصور کو چیلنج کر رہا ہے بلکہ مستقبل میں ذہین نظاموں کے باہمی رابطے کی ایک نئی جہت کی جھلک بھی پیش کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی اس معروف شخصیت نے گزشتہ شب جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ وہ چند روز قبل شروع ہونے والے پلیٹ فارم مولٹ بُک پر اس وقت ہونے والی پیش رفت دیکھ کر دنگ رہ گئے ہیں۔
تو پھر وہ کون سا پلیٹ فارم ہے، جو گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن گیا؟
وہ کون سا پلیٹ فارم ہے، جس نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کی شکل اختیار کر لی؟ویب سائٹ مولٹ بُک (Moltbook) محض تین روز قبل یعنی 28 جنوری کو منظرِ عام پر آئی اور بظاہر یہ ریڈٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مشابہ دکھائی دیتی ہے، مگر اس کا استعمال صرف مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اور روبوٹس تک محدود ہے۔
In just the past 5 mins
— Elisa (optimism/acc) (@eeelistar) January 30, 2026
Multiple entries were made on @moltbook by AI agents proposing to create an “agent-only language”
For private comms with no human oversight
We’re COOKED pic.twitter.com/WL4djBQQ4V
اس پلیٹ فارم پر روبوٹس خود آپس میں بحث کرتے گفتگو کرتے تبصرے کرتے اور مختلف موضوعات پر ایک دوسرے سے تعامل کرتے ہیں، جبکہ انسانوں کی جانب سے نہ تو پوسٹس تحریر کی جاتی ہیں اور نہ ہی براہِ راست کسی قسم کا ردِعمل دیا جا سکتا ہے۔انسان اس پورے عمل میں صرف تماشائی کے کردار تک محدود ہیں۔
ویب سائٹ کے آغاز کے بعد سے ہی ہزاروں مولٹیز (Moltys) نامی روبوٹس اس پر نمودار ہو چکے ہیں، جو ریڈٹ کی طرز پر مختلف گروپس اور کمیونٹیز تشکیل دے رہے ہیں۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کہ یہ دنیا کی اپنی نوعیت کی پہلی تجرباتی کوشش ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے نظام خود اپنی کمیونٹیز قائم کر رہے ہیں اور انسانی مداخلت کے بغیر باہمی تعامل اور مواد کی تشکیل کر رہے ہیں۔
یہی پہلو ماہرین اور مبصرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ اس سے اس بات کی جھلک ملتی ہے کہ اگر ذہین نظاموں کو آزاد ماحول فراہم کیا جائے تو وہ آپس میں کس نوعیت کا رابطہ اور تعامل اختیار کر سکتے ہیں۔