غربت اور قحط کا سامنا کرنے والے مصور کے فن پارے وفات کے بعد غیر معمولی قیمت پر فروخت
ہالینڈ کے مصور ونسنٹ وین گو (Vincent van Gogh) کو امپرشنزم (Impressionism) کے سب سے مشہور فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے، جس نے انیسویں صدی میں فنون لطیفہ کی دنیا میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ اگرچہ وین گو دو قطبی ذہنی خلل (Bipolar Disorder) جیسے نفسیاتی مسائل کا شکار تھے، انہوں نے ایسی لازوال تصویریں بنائیں جو آج بھی بہت سے لوگوں کے لیے متاثر کن ہیں۔
گذشتہ برسوں میں وین گو کے فن پارے نیلامیوں میں دسوں لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوئے، لیکن اپنے وقت میں وین گو کی زندگی انتہائی المیہ آمیز تھی۔وہ غربت اور شدید غذائی قلت کا شکار رہے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لیے خود کو گولی مار کر موت کے منہ میں چلے گئے۔
تاریخ میں اطالوی مصور اور مجسمہ ساز امیدیئو موڈیلیانی (Amedeo Modigliani) کا بھی ذکر ملتا ہے، جس نے بھی اسی طرح کی زندگی گزاری۔
موڈیلیانی صرف 35 سال کی عمر میں غربت اور بیماری کے باعث انتقال کر گئے اور آج ان کے فن پارے سینکڑوں لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوتے ہیں۔
موڈیلیانی کی فنکاری کا سفر
امیدیئو موڈیلیانی 12 جولائی 1884 کو اطالوی شہر لیورنو (Livorno) میں ایک یہودی بورژوا خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے موڈیلیانی صحت کے مسائل کا شکار تھے،مگر وہ فنون، خصوصاً مصوری میں دلچسپی رکھتے تھے۔ فنون کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے وہ فلورنس (Florence)، وینس (Venice) اور اٹلی کے جنوبی علاقوں سے گزرے۔ بعد میں 1906 میں وہ پیرس منتقل ہو کر وہاں مقیم ہو گئے۔
پیرس میں موڈیلیانی نے مونمارٹر (Montmartre) اور مونپارناس (Montparnasse) میں وقت گزارا اور معروف فنکاروں جیسے مورِس اوٹریلو (Maurice Utrillo) اور میکس جیکب (Max Jacob) کے قریب آئے۔ رفتہ رفتہ وہ مقبول ہوئے اور اس دور کے سب سے اہم بوہیمین فنکاروں میں شامل ہو گئے۔
ابتدائی کاموں میں یورپی رینیسانس اور انسانیّت پسندی کے اثرات نظر آتے تھے، لیکن ان کے فن پر پال سیزان (Paul Cezanne) اور فاؤوِزم (Fauvism) کا اثر بھی نمایاں تھا۔ 1909 سے وہ افریقی فنون سے متاثر ہوئے اور کچھ عرصے کے لیے مجسمہ سازی کی جانب گئے، مگر 1914 تک صحت کی خرابی کے سبب دوبارہ مصوری کی جانب لوٹ آئے۔
1917 میں موڈیلیانی کی کچھ تصویروں نے پیرس کی ایک نمائش میں بحران پیدا کیا، کیونکہ انہوں نے عورتوں کے نیم برہنہ پینٹنگز پیش کیں۔ ان تصویروں میں جسم کے حساس حصے دکھائے گئے، جس سے بہت سے لوگوں نے ان پر تنقید کی اور انہیں غیر اخلاقی پینٹنگز قرار دیا۔
اس واقعے کے نتیجے میں پولیس نے موڈیلیانی کی تصویروں کو ہٹانے کی کوشش کی اور یہ معاملہ میڈیا میں سنسنی پیدا کرنے کا سبب بنا۔ تاہم اس وقت موڈیلیانی کو اس سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہ ہوا۔
حیرت انگیز قیمتیں
اپنے فنکاری کے کیریئر میں امیدیئو موڈیلیانی کی کچھ پینٹنگز گذشتہ برسوں میں ناقابل یقین قیمتوں پر فروخت ہوئیں۔ 2015 میں موڈیلیانی کی 1917 میں بنی پینٹنگNu couché (The Sleeping Nude)، جسےThe Red Nudeبھی کہا جاتا ہے، ایک چینی کاروباری شخص کو نیویارک کی ایک نیلامی میں 170 ملین ڈالر سے زائد میں فروخت ہوئی۔اس قیمت کی بدولت یہ پینٹنگ دنیا کی سب سے مہنگی فن پاروں میں شمار ہونے لگی۔
اسی طرح موڈیلیانی کی پینٹنگ Reclining Nudeتقریباً 157 ملین ڈالر میں اورNude Sittingon a Divanکی قیمت9 اعشاریہ 68ملین ڈالر تک رہی۔یہ تصویر موڈیلیانی کی 1919 کی حالت کو ظاہر کرتی ہے، جو ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل کی ہے۔
المناک انجام
ان حیرت انگیز قیمتوں کے باوجود امیدیئو موڈیلیانی نے نہایت کٹھن اور تکلیف دہ زندگی گزاری۔ وہ زندگی بھر غربت اور غذائی قلت کا شکار رہا، کیونکہ وہ اپنی پینٹنگز فروخت کرنے میں ناکام رہا۔ کئی مواقع پر اسے اپنے دوستوں کی مالی مدد پر انحصار کرنا پڑا یا پھر چند پینٹنگز اور مجسمے انتہائی کم قیمت پر بیچنے پڑے۔
دوسری جانب فن پاروں کے تاجروں نے بھی اس کے کام کو حقیر جانا اور اسے سادہ اور فنی حس سے عاری قرار دیا۔مزید یہ کہ موڈیلیانی کو متعدد صحت کے مسائل لاحق رہے۔ وہ کئی بارپھیپھڑوں کی جھلی کی سوزش اور ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہوا۔ اس کے علاوہ وہ طویل عرصے تک تپِ دق (ٹی بی) کے مرض میں مبتلا رہا، جس نے رفتہ رفتہ اس کے جسم کو کمزور کر دیا اور بالآخر اس کی موت کا سبب بنا۔
اس کے ساتھ ساتھ امیدیئو موڈیلیانی شراب اور حشیش کا عادی بھی ہو گیا اور شدید ڈپریشن کا شکار رہا۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ اس لت کی طرف اس امید میں مائل ہوا کہ شاید اس طرح وہ تپِ دق کی جسمانی تکالیف اور اپنی فنکارانہ ناکامیوں سے جنم لینے والے ذہنی دباؤ کو بھلا سکے۔
امیدیئو موڈیلیانی کی ایک پینٹنگ24 جنوری 1920 کو امیدیئو موڈیلیانی تقریباً 35 برس کی عمر میں تپِ دق کی پیچیدگیوں کے باعث اسپتال میں انتقال کر گیا۔
رپورٹس کے مطابق شدید بخار کے باعث وہ اپنے گھر میں بے ہوش ہو گیا اور کچھ وقت تک اکیلا پڑا رہا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا، مگر بیماری کی شدت اور شدید غذائی قلت کے باعث ڈاکٹر اسے بچانے میں ناکام رہے۔
موڈیلیانی کی وفات کے دو دن بعد اس کی محبوبہ جین ہیبوترن (Jeanne Hébuterne) جو اس وقت حاملہ تھیں، نے ایک عمارت سے کود کر خودکشی کر لی اور صرف 21 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
موت کے بعد شہرت
امیدیئو موڈیلیانی کی وفات کے بعد ان کے فن پاروں کی قدر تیزی سے بڑھ گئی، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ متعدد آرٹ ڈیلرز نے ان کی تخلیقات کو عالمی سطح پر مارکیٹ اور میوزیمز میں فروغ دیا۔
اسی کے ساتھ موڈیلیانی کی "ملاعون فنکار" کے طور پر بدنام شدہ شہرت نے بھی ان کے فن پاروں کی قیمت میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ زندگی بھر موڈیلیانی نے غربت، بھوک، بیماری، نشہ، جذباتی ڈرامہ اور ڈپریشن کا سامنا کیا، اس سب کے باوجود ان کا انتقال غیر معمولی طور پر جلد ہوا، جس نے ان کے فن کی قیمت اور اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔