حوصلے والے فنکار اپنی منفرد فنکارانہ پہچان برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو اپنی فطری صلاحیت اور عوامی مقبولیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔مصری ہدایت کار انہیں صرف مناظر مکمل کرنے کے لیے استعمال نہیں کرتے، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ کاموں میں ایک روح اور سچائی پیدا کرتے ہیں جو کبھی نہیں بھولی جاتی۔
بچّہ ہشام اب بھی یادوں میں زندہ ہے، جس نے مرحوم محمود عبد العزيز کے ساتھ فلم'' الساحر'' میں حصہ لیا تھا، اس کی اداکاری اور شوخ مزاجی آج بھی یاد کی جاتی ہے، حالانکہ اس فلم کو دیکھے 25 سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔
ان کی شمولیت صرف ضمنی کرداروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی زندگی کی کہانیاں بھی کامیاب کاموں کا محور بن گئی ہیں، جیسے کہ مسلسل خصوصی صورتِ حال جس میں طہ الدسوقی نے ایک ایسے نوجوان کی کہانی پیش کی جو حوصلے اور ہمت سے محدود حالات کے باوجود وکالت میں کامیاب ہوا۔
عبد الرحمن مخلوفرمضان کے اگلے میراتھن میں کئی حوصلے والے فنکار حصہ لیں گے، جن میں عبد الرحمن مخلوف شامل ہیں، جنہوں نے مسلسل فروخت اور خریدمیں سلمہ ابو ضيف کے ساتھ کردار ادا کیا، جو ماہ رمضان میں نشر ہوگا۔
اس سے پہلے بھی دیگر حوصلے والے فنکار نمایاں کاموں میں شامل رہے، جیسے کہ محمد عزمی جنہوں نے مسلسل ''میرا نصیب اور تمہارا نصیب''،''پرسکون چاند ''اور ''ماہر کا وار'' میں اداکاری کی۔
عمرو عادل جو ایک حوصلے والے فنکار ہیں، نے 2023 میں مسلسل '' تھیٹر ''میں حصہ لیا، جس میں کہانی تین بھائیوں کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے دادا کا تھیٹر بیچ کر مالی مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن دادا کی وصیت کے مطابق 12 پرفارمنسز پیش کرنی ہوں گی، ورنہ تھیٹر ریاست کے پاس چلا جائے گا، جو کرداروں کے لیے الجھن پیدا کرتا ہے۔
مینا ابو الدہب نے مسلسل ''سورج کے بچے'' میںاحمد مالک، طہ الدسوقی اور محمود حميدہ کے ساتھ کردار ادا کر کے توجہ حاصل کی اور اپنے کام کے لیے کئی اعزازات حاصل کیے۔
سینما میں مریم شریف نے فلم ''سنو وائٹ'' میں نمایاں کام کیا، جو ایک حوصلے والی لڑکی کی کہانی بیان کرتی ہے ،جو سچّا پیار اور شادی کا خواب دیکھتی ہے لیکن قد کے مسئلے کی وجہ سے اسے شادی کے ایپ کے ذریعے اپنی حقیقت چھپانی پڑتی ہے۔فلم ''يوم الدين'' حوصلے والے بشاي کے سفر کی کہانی پیش کرتی ہے، جو مصر میں اپنے خاندان کی تلاش میں نکلتا ہے اور اس میں راضی جمال نے مرکزی کردار ادا کیا، جو حقیقی زندگی میں جذام کا شکار ہیں۔ یہ فلم عالمی سطح پر کئی انعامات جیت چکی ہے اور اسے آسکر کے لیے مصر کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا۔