رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 23 فروری کو ہونے والی خفیہ کال ایک اہم لمحہ تھی، جس نے ایران پر جنگ کے لیے بنیاد فراہم کی۔
اس دن نیتن یاہو نے ٹرمپ کو انتہائی حساس خفیہ معلومات فراہم کیں، جن کے مطابق ایرانی رہنما علی خامنہ ای اور ان کے اعلیٰ مشیر 28 فروری کی صبح تہران میں ایک ہی جگہ جمع ہوں گے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہ موقع ہے کہ ان پر ایک واحد اور تباہ کن فضائی حملے کے ذریعے کارروائی کی جا سکتی ہے، جیسا کہ تین ذرائع نے Axios کو بتایا۔
پرکشش اہداف
رپورٹس کے مطابق نئی خفیہ معلومات سے قبل بھی امریکی صدر ایران پر حملہ کرنے کے جھکاؤ میں تھے، لیکن انہوں نے حملے کے وقت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے رابطے کے بعد یہ فیصلہ ممکن ہوا کیونکہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی حلقے پرکشش اہداف تھے، جنہیں ٹرمپ اور نیتن یاہو گنوا نہیں سکتے تھے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق 23 فروری کی کال اس مہینوں طویل قریب سے تعاون اور منصوبہ بندی کا حصہ تھی، جس میں گزشتہ دو ماہ کے دوران دو ملاقاتیں اور 15 رابطے شامل تھے۔
ایران پر حملے سے قبل۔واشنگٹن اور تل ابیب نے حملے کو ایک ہفتہ قبل کرنے پر بھی غور کیا تھا، لیکن اسے خفیہ معلومات اور عملی وجوہات بشمول خراب موسم کے سبب مؤخر کر دیا گیا۔
معلومات کی تصدیق
رپورٹس کے مطابق Axios نے بتایا کہ ٹرمپ نے امریکی مرکزی خفیہ ایجنسی (CIA) سے ابتدائی جانچ پڑتال کروائی تاکہ اسرائیلی خفیہ معلومات کی درستگی کی تصدیق ہو سکے۔
بعد ازاں ایجنسی نے تصدیق کی کہ علی خامنہ ای اور ان کے قریبی مشیر واقعی ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ موجود ہوں گے۔
اسی سلسلے میں امریکی حکام نے بتایا کہ ٹرمپ نے 25 فروری کو اپنے یونین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران پر زیادہ توجہ دینے سے گریز کیا تاکہ ایرانی قیادت کو شبہ نہ ہو اور وہ اپنی نقل و حرکت تبدیل نہ کریں۔
26 فروری تک CIA نے مکمل طور پر تصدیق کر لی کہ خامنہ ای اور ان کے مشیر ایک ساتھ موجود ہوں گے اور ایک اہلکار کے مطابق :ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھانا تھا۔
سفارت کاری کی ناکامی
اسی دن امریکی صدر کے بھیجے گئے نمائندے جارڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف نے جنیوا سے ایک رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت بہت مشکل مرحلے پر پہنچ گئی ہے۔
اسی وقت ٹرمپ دو باتوں پر قائل ہوئے: خفیہ معلومات کی درستگی اور ایران کے ساتھ سفارت کاری کی ناکامی۔ 27 فروری کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام 3بج کر38 منٹ پر ٹرمپ نے اپنا حتمی فیصلہ جاری کیا۔ 11 گھنٹے بعدتہران پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں خامنہ ای ہلاک ہو گئے اور جنگ کا آغاز ہو گیا۔
Axios نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ نیتن یاہو کی بات سننے کے لیے کھلے ذہن کے تھے، لیکن انہوں نے زور دیا کہ سفارت کاری پہلے پوری کرنی چاہیے۔اس دوران مذاکراتی چینلز اور مشترکہ فوجی منصوبہ بندی دونوں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔
ٹرمپ نے اس بات کو بھی رد کیا کہ نیتن یاہو نے حملے کے فیصلے پر اثر ڈالا۔ انہوں نے گزشتہ منگل کو کہا کہ ان کا اندازہ تھا کہ ایران ممکنہ طور پر حملہ کرے گا۔سب سے پہلے انہوں نے کہا: اگر کچھ ہوا بھی تو شاید میں ہی تھا جس نے اسرائیل کو حرکت کرنے پر مجبور کیا۔