ایران میں منصوبے سے بڑھ کر نتائج حاصل کر رہے ہیں: ٹرمپ

تین دنوں میں 42 ایرانی بحری جہازوں کو غرق کردیا ہے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے نے منصوبہ بندی سے بڑے نتائج حاصل کیے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران میں اپنی توقعات سے زیادہ کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ ایرانی بحریہ پر امریکی حملے کے میدانی نتائج کے بارے میں ٹرمپ نے بتایا کہ تین دنوں میں 42 ایرانی جہاز غرق کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے تہران پر تنقید کی اور کہا کہ ایرانی حکومت بہت سے قتل و غارت کی ذمہ دار ہے۔ امریکی عوامی رائے عامہ کو مطمئن کرنے اور مہم کے مخالفین سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ جنگ میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد کم کرنے پر کام کریں گے۔

اس سے قبل ہفتے کے روز ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ بدترین شکست سے دوچار ایران نے معافی مانگ لی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر گولیاں نہیں چلائے گا۔ امریکی صدر نے دھمکی دی کہ ایران کو آج انتہائی زوردار ضرب لگے گی۔ امریکی صدر کے یہ بیانات ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اس ٹیلی ویژن خطاب کے کچھ دیر بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے پڑوسی ملکوں سے معافی مانگی اور اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ملکوں کے ساتھ ایران کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔ تاہم ایران اسرائیل اور امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ میں پڑوسی ملکوں سے معافی مانگتا ہوں، خطے کے ملکوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ان کا ملک پڑوسی ملکوں پر حملے روک دے گا الا یہ کہ وہاں سے ایران پر حملے کیے جائیں۔ امریکی صدر نے اپنے ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ اکاؤنٹ پر لکھا کہ شدید مشکلات کے شکار ایران نے معافی مانگ لی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے پڑوسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ ایران نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر فائرنگ نہیں کرے گا۔ یہ وعدہ صرف مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ پر غلبہ پانے اور حکومت کرنے کے خواہاں تھے۔ ہزاروں سالوں میں یہ پہلی بار ہے کہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ کے پڑوسی ملکوں کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ صدر ٹرمپ، آپ کا شکریہ‘‘ ۔ میں نے کہا ’’ کوئی بات نہیں!‘‘ ۔ ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا ظالم نہیں رہا بلکہ ہارا ہوا ملک بن چکا ہے۔ اور کئی دہائیوں تک ایسا ہی رہے گا جب تک وہ ہتھیار نہ ڈال دے یا مکمل طور پر تباہ نہ ہو جائے!

امریکی صدر نے مزید یہ بھی کہا کہ آج (ہفتہ) ایران پر بھرپور ضرب لگائی جائے گی! ایسے علاقے اور گروہ ہیں جنہیں اب تک نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، ہم ان کے برے رویے کی وجہ سے انہیں مکمل تباہ کرنے اور یقینی موت دینے کے لیے سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ آپ کی توجہ کا شکریہ۔

یاد رہے امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی ہے کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے ایٹمی اور میزائل خطرات کے پیش نظر کیا گیا۔ ان حملوں میں ایران کے کئی اہم رہنما جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف عبدالرحیم موسوی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اس جوابی کارروائی میں اسرائیلی اہداف کی طرف میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔ اسی طرح بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں