چند ہفتے قبل شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کی نوجوان بیٹی کی رائفل سے فائرنگ کرنے کی تصاویر سامنے آئی تھیں۔ اسی سلسلے میں اب سرکاری طور پر نئی تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں وہ پستول سے نشانہ بازی کر رہی ہیں۔ اس اقدام نے ایک بار پھر ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ انہیں اقتدار کی وارث کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
آج جمعرات کے روز جاری فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق حکمراں لیبر پارٹی کی گذشتہ ماہ منعقد ہونے والی مرکزی کانفرنس کے اختتام پر جاری کی گئی سرکاری تصاویر میں "جو آئی" نمایاں طور پر نظر آ رہی ہیں۔ ان تصاویر میں اس نوجوان لڑکی کو ایک آنکھ بند کر کے پستول چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ اسلحے کی نالی سے شعلے نکل رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق جو آئی اپنے والد کے ہمراہ "گولہ بارود کے ایک مرکزی کارخانے" کی تقریب میں شریک تھیں جہاں نئے پستول اور دیگر "ہلکے سفری ہتھیار" تیار کیے جاتے ہیں۔
North Korea unveils image of leader's teenage daughter firing pistol - once again stoking speculation she is being groomed as heirhttps://t.co/ZnprHsTcAw pic.twitter.com/zOsGGBP5UD
— AFP News Agency (@AFP) March 12, 2026
تصاویر میں باپ بیٹی کی جوڑی کو ایک جیسے چمڑے کے کوٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے، جسے شمالی کوریا میں اقتدار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہ کارخانے کے معائنے کے دوران حکام سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ وہاں کم جونگ اُن نے کارخانے کی "رائفل رینج" کا دورہ کیا اور خود نئے پستول کا تجربہ کیا، ساتھ ہی انہوں نے ہتھیار کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کی کیونگ نام یونیورسٹی میں شمالی کوریا کے امور کے ماہر لم ایول چول کا ماننا ہے کہ کم عمری کے باوجود "ایسا لگتا ہے کہ نظام ایک مضبوط اور باوقار خاتون کا تصور راسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پستول سے فائرنگ کا منظر واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ان میں ایک فوجی کمانڈر کی خصوصیات پروان چڑھائی جا رہی ہیں"۔
یاد رہے کہ جو آئی کو طویل عرصے سے اقتدار کی اگلی وارث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس تصور کو حال ہی میں میڈیا میں ان کی مسلسل موجودگی اور گذشتہ ماہ کے آخر میں شوٹنگ رینج میں رائفل سے فائرنگ کرنے کی ایک نایاب تصویر سے تقویت ملی ہے۔
واضح رہے کہ سال 2022 میں یہ نوجوان لڑکی پہلی بار اس وقت دنیا کے سامنے آئی تھی جب وہ اپنے والد کے ساتھ بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کے موقع پر موجود تھی۔