ثالثی کی کوششیں جاری، پاکستان ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کے لیے سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حالیہ امریکی وایرانی مذاکرات میں تعطل کے باوجود پاکستان کو توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نظرثانی شدہ تجویز موصول ہوگی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کی پیش کردہ تازہ ترین تجویز کو قبول نہیں کریں گے۔

دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ممکنہ معاہدے کی صورت میں روس ضامن کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسی دوران ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں اور اس میں کسی قسم کا وقفہ نہیں آیا، جیسا کہ پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔


تین مراحل پر مشتمل تجویز

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر (ہفتہ اور اتوار) اسلام آباد کے دورے کے دوران ایک نیا تجویز کردہ منصوبہ پیش کیا، جس میں تین مراحل شامل ہیں۔

پہلے مرحلے میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کی بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی، اس میں روس ضامن کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بدلے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اسی مرحلے کے دوران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے مستقبل پر بات چیت کی تجویز دی گئی ہے۔

عراقچی نے عمان کے دورے کے دوران یہ بھی تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز کو دونوں ساحلی ممالک کے درمیان مشترکہ طور پر تقسیم کیا جائے، تاہم امریکی حکام کے مطابق مسقط نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔



تیسرا مرحلہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات سے متعلق ہے۔امریکی ذرائع اس سے قبل اس بات کو مسترد کر چکے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اس منصوبے کو قبول کرے گی، خاص طور پر اس لیے کہ واشنگٹن مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کا مستقل حل ضروری ہے۔

وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز بھی تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کسی بھی کمزور یا ناقص معاہدے پر جلد بازی نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا۔

اسی دوران مذاکرات میں پیش رفت کی امیدیں اس وقت کم ہو گئیں، جب ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر کو اسلام آباد جانے سے روک دیا، جہاں اس وقت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں