فجیرہ حملہ: بھارت کا شدید ردعمل، واقعہ ناقابلِ قبول قرار
فجیرہ کے صنعتی تیل کے علاقے پر ڈرون حملے کے حوالے سے متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ یہ حملہ ایران نے کیا تھا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز ''ایکس ''پر ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ''ناقابلِ قبول'' قرار دیا ہے، جس میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے تھے۔
وزارت نے کہا کہ ہم فوری طور پر ان جارحانہ کارروائیوں اور شہری بنیادی ڈھانچے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں، یہ اشارہ فجیرہ کے صنعتی تیل کے علاقے (فوز) پر ڈرون حملے کی طرف تھا، جس کے بارے میں امارات کا کہنا ہے کہ یہ ایران نے کیا۔
خلیج تعاون کونسل نے بھی اس حملے کو شدید جارحانہ اقدام اور خطرناک کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق پیر کے روز ملک کے تیل کے شعبے کے ایک اہم علاقے میں آگ بھڑک اٹھی، جس کی وجہ ایران کا ڈرون حملہ تھا، جبکہ اسی دوران فوج نے ایک الگ واقعے میں ایرانی میزائلوں کو بھی فضائی حدود میں روک لیا۔
فجیرہ حکومت کے میڈیا دفتر نے کہا کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں فوری طور پر آگ پر قابو پانے کے لیے پہنچ گئیں اور حملے میں تین بھارتی شہری درمیانے درجے کے زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
اماراتی حکام نے دبئی اور ابوظہبی میں شہریوں کو میزائل حملوں سے خبردار کرنے کے لیے موبائل الرٹس بھی جاری کیے۔
بعد ازاں وزارتِ دفاع نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو ناکارہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے۔
طویل کشیدگی کے دوران امارات نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہزاروں ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے ایران کے ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت اور کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کی مدد کے لیے ''آزادی کا منصوبہ ''شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کی حفاظت اور ٹریفک کو منظم کرنا بتایا گیا ہے۔