برطانوی پولیس نے گزشتہ ہفتے ایک جماعت احمدیہ کے نو افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر زیادتی، غلامی اور جبری شادی جیسے سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔
پولیس کے مطابق ان الزامات کی تحقیقات کے لیے اس گروہ سے منسلک متعدد مراکز پر چھاپے بھی مارے گئے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ کارروائی ''جماعت الاحمدیہ للسلام والنور'' سے متعلق مبینہ جنسی زیادتی، جبری شادی اور جدید دور کی غلامی کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔
اس گروہ نے چیشائر کے شہر کروز میںاپنے مراکز ہے۔جہاں پرچھاپوں میں سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔چیشائر پولیس کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں چھ مرد اور تین خواتین شامل ہیں، جن کا تعلق امریکہ، میکسیکو، اٹلی، اسپین، سویڈن اور مصر سے ہے۔
جماعت ''احمدیہ'' ایک سابق یتیم خانے ''ویب ہاؤس ''کو اپنے مرکزی دفتر کے طور پر استعمال کرتی ہے، جہاں تقریباً 150 افراد رہائش پذیر ہیں۔
پولیس نے ایک اور مقام پر بھی موجود دو مزید عمارتوں پر بھی چھاپے مارے ہیں۔یہ گرفتاریاں اس وقت ہوئیں، جب مارچ میں ایک خاتون جو بعد میں آئرلینڈ منتقل ہو گئی تھی، نے 2023 میں اس گروہ سے وابستگی کے دوران زیادتی اور جنسی حملے کے الزامات عائد کیے۔تمام مبینہ جرائم ایک ہی متاثرہ خاتون سے متعلق ہیں۔
چیشائر پولیس کے چیف انسپکٹر گیریتھ ریگلی نے کہا کہ یہ کارروائی جنسی جرائم، جبری شادی اور جدید غلامی سے متعلق شکایات پر ایک تفصیلی اور جامع تحقیقات کا نتیجہ ہے، جن میں ''جماعت احمدیہ، دینِ امن و نور'' کے ارکان ملوث پائے گئے ہیں، جو کروز نامی قصبے میں سرگرم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ گرفتار افراد اس جماعت کے رکن ہیں، لیکن یہ تفتیش کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ موصول ہونے والے سنگین الزامات سے متعلق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس تمام جنسی جرائم کی شکایات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرفتاریوں کے بعد دیگر اراکین کی حفاظت اور انہیں مناسب مشورہ فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ مجموعی طور پر معاشرے کے لیے کوئی خطرہ موجود نہیں ہے اور مقامی لوگوں کو تسلی دینے کے لیے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر کسی کو کوئی خدشہ ہو تو وہ پولیس اہلکاروں سے رابطہ کریں۔مزید بتایا گیا ہے کہ یہ جماعت 2021 میں سویڈن سے چیشائر منتقل ہوئی تھی، جہاں انہوں نے ایک گھر خریدا اور اسے اپنا مرکزی مرکز بنا لیا۔
بعد ازاں اس نے بچوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے کئی مراکز قائم کیے، جہاں 56 بچے موجود ہیں۔ یہ بچے ہوم اسکولنگ حاصل کر رہے ہیں اور مقامی احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔