سال 2025 میں سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کی ترسیلاتِ زر کا حجم 44 ارب ڈالر رہا
مملکت کے مطابق قانونی ہجرت کے مؤثر انتظام کے لیے ایسی بین الاقوامی شراکت داری ضروری ہے جو ریاستوں کی خود مختاری اور ان کی قومی ترجیحات کو ملحوظِ خاطر رکھے
ایک سعودی عہدے دار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر قانونی ہجرت کا انتظام بہتر طریقے سے کیا جائے تو یہ معاشی ترقی کے لیے ایک معاون موقع ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ 2025 کے دوران سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کی ترسیلاتِ زر تقریباً 44 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ ان غیر ملکیوں کے ممالک کی معیشتوں کی مدد اور پائے دار ترقی کے فروغ میں ریاض کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب سفیر ڈاکٹر عبد العزیز الواصل نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہجرت کے جائزے سے متعلق دوسرے بین الاقوامی فورم میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت لیبر مارکیٹ اور غیر ملکی افرادی قوت سے متعلق نمایاں اصلاحات کا جائزہ پیش کیا۔
الواصل نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی ہجرت کے مؤثر انتظام کے لیے ایسی بین الاقوامی شراکت داری درکار ہے جو ریاستوں کی خود مختاری اور ان کی قومی ترجیحات کو ملحوظِ خاطر رکھے، تاکہ ترقی کو فروغ ملے اور باہمی فوائد حاصل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہجرت کے عالمی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے پہلی رضاکارانہ قومی رپورٹ کی پیشکش، اس سمت میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی طریقہ کار کی عکاسی کرتی ہے۔