سمندر کی تاریکی سے سورج کی روشنی تک، سعودی عرب میں ڈوبے ہوئے خزانوں کی نمائش

بحیرہ احمر کی دریافتوں میں ڈوبے ہوئے بحری جہاز سے ملنے والے اسلامی سکوں کا مجموعہ بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب نے ان آثار قدیمہ کی دریافتوں کو نمائش کے لیے پیش کیا ہے جو بحیرہ احمر (مملکت کے مغرب میں) میں تجارتی اور سمندری سرگرمیوں کی گہرائی میں موجود ہیں۔ سعودی عرب کے ساحلوں پر واقع بندرگاہیں براعظموں ایشیا، یورپ اور افریقہ اور گزشتہ صدیوں کی تہذیبوں کے درمیان تجارت اور حج کے راستوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ تاریخی شہر جدہ میں بحیرہ احمر میوزیم میں منعقد نمائش ’’ ڈوبے ہوئے خزانے: بحیرہ احمر میں سمندری ورثہ‘‘ دلچسپی رکھنے والوں کو الشیعبہ خزانے کے سکوں سے آگاہ کر رہی ہے۔ یہ ان اہم ترین آثار قدیمہ کی دریافتوں میں سے ایک ہے جو ماضی کے ادوار میں بحیرہ احمر کی اہمیت کو آشکار کرتی ہیں۔

اس نمائش میں چاندی کے اسلامی سکوں کا ایک مجموعہ بھی شامل ہے جو الشیعبہ کے ساحل کے قریب ایک ڈوبے ہوئے بحری جہاز کے ملبے سے نکالے گئے تھے۔ یہ وہ تاریخی بندرگاہ ہے جو مکہ مکرمہ کی خدمت سے وابستہ تھی۔ یہ سکے 1225 اور 1350 عیسوی کے درمیانی عرصہ کے ہیں جو اس دور میں خطے میں ہونے والے تجارتی اور اقتصادی تبادلے کی تاریخ پر ایک وسیع علم مہیا کر رہے ہیں۔

"الشیعبہ خزانے کے سکے" اپنی اہمیت مملکت سے باہر لے جائے جانے کے بعد اپنی واپسی کی کہانی سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ سکے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور آثار قدیمہ کے نمونوں کی حفاظت کے لیے کی جانے والی کوششوں کی عکاسی بھی کر رہے ہیں ۔ ایک ایسے خزانے سے تقریباً 300 چاندی کے سکے واپس حاصل کیے گئے ہیں جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس میں تقریباً 5 ہزار ٹکڑے شامل تھے۔

"ڈوبے ہوئے خزانے" کی یہ نمائش اس سال 2026 کے 29 مئی تک جاری رہے گی۔ نمائش میں بصری پیشکشوں اور انٹرایکٹو تکنیکوں کے ذریعے ایک مکمل ثقافتی اور علمی تجربہ فراہم کیا جارہا ہے۔ بحیرہ احمر کی گہرائیوں سے ملنے والے آثار قدیمہ کی ایسی دریافتوں کو پیش کیا جارہا ہے جو انسانی جہاز رانی کی تاریخ اور صدیوں میں تہذیبی و ثقافتی تبادلے کے راستوں کی زندہ ثبوت ہیں۔

سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن اور تاریخی جدہ پروگرام کے تعاون سے قائم یہ سعودی نمائش سمندری ورثے کی دستاویز کاری اور سائنسی تحقیق کو فروغ دینے میں سعودی ثقافتی اداروں کے کردار کی عکاسی کر رہی ہے۔ تاریخی مواد کو جدید پیشکش کے طریقوں سے سامنے لایا جا رہا ہے جو سمندری ورثے کی قدر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ نمائش قومی شناخت کے تحفظ اور عالمی سطح پر اس کی ثقافتی موجودگی کو بڑھانے کے مملکت کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

عبدالرحمن عبدالرحیم عبدالرحمن کے لکھے ہوئے ایک تاریخی تحقیقی مطالعے کا عنوان ’’ 1517 تا 1798 عثمانی دور میں بحیرہ احمر میں تجارتی سرگرمیاں " ہے۔ اس مقالے کو شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن (سعودی تاریخ اور جزیرہ نما عرب کی آرکائیونگ کا ذمہ دار ادارہ) کے جریدے نے شائع کیا۔ اس میں مملوک دور سے عثمانی دور تک بحیرہ احمر میں تجارت اور اثر و رسوخ کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی۔

اس مطالعے نے ان پھیلے ہوئے ساحلوں کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت کو واضح کیا جس کی وجہ سے پچھلے ادوار میں کچھ قوتوں کے درمیان اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کشمکش ہوئی۔ یہ تحقیق بحیرہ احمر، عثمانی ریاست، پرتگالی موجودگی اور خلیج کے خطے اور جزیرہ نما عرب کے جغرافیہ اور اس کی تاریخ سے متعلق متعدد دستاویزات اور مطالعات پر مبنی ہے۔

مطالعے نے بتایا کہ ان قوتوں کے درمیان مقامی مارکیٹ پر تجارتی مقابلہ تھا۔ عام طور پر بحیرہ احمر کے طاس کے ممالک اور خاص طور پر مصر میں تجارتی سرگرمیوں کا اثر ان قوتوں پر پڑا۔ مصری مارکیٹ اس تجارتی سامان کی نکاسی کے لیے ایک مرکزی منڈی بن گئی جو بحیرہ احمر کے راستے مصر پہنچتا تھا۔ خاص طور پر یمنی کافی، بھارت سے کپڑے اور چاول اور سیاہ براعظم میں صومالیہ کا ہاتھی دانت اور دیگر سامان مصر پہنچتا تھا۔

سعودی عرب اس نمائش کے ذریعے ان خزانوں کو ایک بار پھر منظر عام پر لایا ہے جو پانی کے نیچے دبے ہوئے تھے اور یہ آثار قدیمہ کے سروے کے بعد کیا گیا جس میں بحری جہاز اور نوادرات دریافت ہوئے۔ ان میں پچھلے ادوار کے سکے بھی شامل ہیں جنہوں نے اس ساحل کی اہمیت اور قوموں کے درمیان تہذیبی تبادلے میں اس کے کردار کو واضح کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں