مصنوعی ذہانت کی مدد سے اونٹوں کی فضائی نگرانی، کاوسٹ کا نیا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

عالمی یومِ اونٹ کے موقع پر کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی (کاوسٹ) نے ایک جدید ذہین نظام متعارف کرایا ہے، جو مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز کے ذریعے فضاء سے اونٹوں کی شناخت اور نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ جدید ٹیکنالوجی اونٹ پالنے والوں کی مدد، ریوڑوں کی نگرانی کے اخراجات میں کمی اور سعودی عرب کی ثقافتی شناخت کی اہم علامت سمجھے جانے والے اونٹوں کے تحفظ میں معاون ثابت ہونے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

پروفیسر باسم شحادہ کی قیادت میں کام کرنے والی تحقیقی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ اس نظام میں کم لاگت والے تجارتی کیمروں سے لیس ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں۔

اس کی بدولت اونٹوں کی نگرانی کے لیے مہنگے جی پی ایس کالرز یا سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کی ضرورت نہیں رہتی، جس سے نگرانی کا عمل زیادہ آسان اور کم خرچ ہو جاتا ہے۔

اونٹ پالنے والوں کے لیے کم لاگت اور مؤثر حل

یہ نیا نظام اونٹ پالنے والوں اور چرواہوں کے لیے ایک عملی اور کم خرچ متبادل فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ محققین کو بھی ایک جدید سائنسی ذریعہ مہیا کرتا ہے، جس کی مدد سے وہ اونٹوں کی نقل و حرکت، عادات اور قدرتی ماحول میں ان کے رویّوں کا زیادہ مؤثر انداز میں مطالعہ کر سکتے ہیں۔

اس تحقیق سے اونٹوں کی دیکھ بھال، انتظام اور افزائش کے جدید طریقوں کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔تحقیقی ٹیم نے ڈرون پر نصب ایک واحد کیمرے کے ذریعے سعودی عرب میں موجود اونٹوں کے چھوٹے ریوڑوں کی فضائی تصاویر اور ویڈیوز جمع کیں۔

بعد ازاں مصنوعی ذہانت کے ایک ماڈل کو مشین لرننگ کی جدید تکنیکوں کے ذریعے تربیت دی گئی تاکہ وہ صحرائی ماحول میں موجود اونٹوں کی درست شناخت کر سکے۔یہ کام خاصا چیلنجنگ تھا کیونکہ صحرائی علاقوں میں اونٹوں کا رنگ اور شکل بعض اوقات چٹانوں، پتھروں اور جھاڑیوں سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے باعث روایتی نگرانی کے نظام کے لیے انہیں الگ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام ان رکاوٹوں کے باوجود اونٹوں کی شناخت اور ان کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اونٹوں کے چرنے کے انداز بے ترتیب نہیں

اس جدید نظام نے اونٹوں کے رویّوں سے متعلق کئی نئی معلومات بھی سامنے لائی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اونٹوں کے چرنے اور نقل و حرکت کے انداز اتنے بے ترتیب نہیں جتنے پہلے تصور کیے جاتے تھے، بلکہ وہ باقاعدہ اور منظم راستوں پر حرکت کرتے ہیں، جن کا تجزیہ اور مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

منصوبے میں شامل محقق چون بونگ لاو کے مطابق خاص طور پر عمر رسیدہ اونٹ دن کے وقت طویل فاصلے طے کرتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت ایک منظم طرز پر ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اونٹ بار بار ایک جیسے راستے اختیار کرتے ہوئے شام ڈھلنے سے پہلے اپنے مالک یا چرواہے کے پاس واپس آ جاتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہ نتائج اونٹوں کے قدرتی رویّوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کریں گے اور مستقبل میں ان کی نگرانی، دیکھ بھال اور ریوڑوں کے انتظام کے مزید مؤثر طریقے وضع کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈرونز کے لیے اونٹوں کی حساسیت

تجارب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اونٹ ڈرونز کی آواز کے لیے کافی حساس ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے تحقیقاتی ٹیم نے طیارہ نما ڈرونز کو کم از کم 120 میٹر کی بلندی پر چلانے کا فیصلہ کیا تاکہ نگرانی کے دوران اونٹوں کے قدرتی رویّے پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

اونٹ عرب جزیرہ نما کی تاریخ اور ثقافت کی ایک اہم علامت سمجھے جاتے ہیں اور صحرائی زندگی میں صدیوں سے انسان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

آج یہ جانور قومی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور خوراک، ٹیکسٹائل اور سیاحت جیسے مختلف شعبوں کے ذریعے سالانہ دو ارب ریال سے زائد کا حصہ ڈال رہے ہیں۔

یہ جدید ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اونٹ پالنے والوں کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بعض اوقات اونٹوں کے ریوڑ ایک دن میں 50 کلومیٹر تک سفر کر جاتے ہیں، جس سے ان کے گم ہو جانے یا ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ غیر منظم چرائی کے باعث قدرتی نباتات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے ماحولیات کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

آئندہ مرحلے میں مزید ترقی کا منصوبہ

کاوسٹ کی تحقیقی ٹیم آئندہ مرحلے میں اس منصوبے کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے تحت زیادہ بڑے اور متنوع اونٹوں کے ریوڑوں کی ویڈیوز اور ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا تاکہ نظام کی درستگی میں اضافہ کیا جا سکے اور مختلف ماحولیاتی حالات میں اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

پروفیسر باسم شحادہ نے کہا کہ اس منصوبے کا خیال سعودی عرب کے مقامی ماحول اور اس کے چیلنجز سے متاثر ہو کر سامنے آیا۔ ان کے مطابق یہ اختراع اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کو مقامی معاشروں کی خدمت اور اونٹوں سے جڑی روایات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو کہ سعودی عرب کی قومی شناخت کا ایک اہم حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں