یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔
ڈیئر لائن نے آج ہفتے کے روز پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا کہ "جب تک لبنان جل رہا ہو، مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا"۔ انہوں نے ثالثی کی کوششوں پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگلے اہم اقدامات غیر ریاستی گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا ہیں۔
ڈیئر لائن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی یونین علاقائی استحکام کی جانب اس راستے کی حمایت کے لیے تیار ہے جس میں انتہائی ضروری انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنا شامل ہے۔ انہوں نے بے گھر ہونے والوں کی مدد کے لیے 10 کروڑ یورو مختص کرنے کا ذکر کیا۔
لبنان نے گذشتہ روز امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ واشنگٹن میں مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے۔
دستخط کی تقریب کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ معاہدہ "ایک پائیدار اور محفوظ امن کے فریم ورک" کی راہ ہموار کرتا ہے۔
واشنگٹن میں لبنان کی سفیر نے کہا کہ "فریم ورک معاہدہ لبنانی سرزمین کی بحالی کی راہ کی جانب ایک قدم ہے۔"
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی معاہدے کو ایران کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا۔ واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیر نے بیان دیا کہ "اس معاہدے کے ذریعے ایران اور حزب اللہ تنظیم مساوات سے باہر ہو گئے ہیں۔"
-
فوج جنوبی لبنان سے اپنے کچھ بریگیڈز واپس بلائے گی: اسرائیلی میڈیا
فریم ورک معاہدے کے مطابق لبنانی فوج پر لازم ہے کہ وہ پورے ملک پر اپنا کنٹرول قائم ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں "حزب اللہ"کے ارکان کو نشانہ بنایا
نبطیہ پر فضائی حملے کے ذریعے
بين الاقوامى -
حزب اللہ نے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل-لبنان سکیورٹی معاہدہ مسترد کر دیا
معاہدہ 'ہتھیار ڈالنے' کے مترادف ہے: سربراہ حزب اللہ
مشرق وسطی