اسرائیل نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے سلووینیا میں اپنا پہلا مستقل (رہائشی) سفیر نامزد کر دیا ہے جو دارالحکومت لیوبلیانا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سفارتی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
وزیرِ اعظم رابرٹ گولوب کی سابقہ مرکزی بائیں بازو کی حکومت کے تحت اسرائیل اور سلووینیا کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے تھے جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کے فوجی حملے کو "نسل کشی" قرار دیا تھا۔
لیکن جب سے قدامت پسند وزیرِ اعظم جانیز جانسا نے عہدہ سنبھالا ہے، تعلقات میں نمایاں طور پر گرم جوشی آئی ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ روتھ کوہن ڈار -- جو اب تک سلووینیا اور مالٹا میں غیر مقیم سفیر ہیں -- لیوبلیانا میں ملک کی پہلی مستقل مندوب ہوں گی۔
گذشتہ ماہ سلووینیا میں سفارت خانہ کھولنے کے اسرائیلی فیصلے کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے۔
وزارت نے کہا، "سفارت خانے کے قیام کا فیصلہ اسرائیل اور سلووینیا کے درمیان تعلقات میں کئی سال کی خرابی اور سلووینیا میں اسرائیل کے دوست جانیز جانسا کی سربراہی میں نئی حکومت کے قیام کے بعد کیا گیا ہے۔"
سلووینیا کی نئی قدامت پسند قیادت والی حکومت نے اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے دو وزراء پر داخلے کی پابندی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادیوں سے درآمدات پر پابندی ختم کر دی۔
سلووینیا کے 2024 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد سے علامتی طور پر سرکاری عمارت پر جو فلسطینی پرچم آویزاں تھا، وہ بھی جانسا کی حکومت نے ہٹا دیا ہے۔
-
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں پھر بمباری کر دی، حزب اللہ کے ٹھکانے نشانہ
اسرائیلی فوج نے لبنان کے ساتھ اسرائیل کی امریکی سرپرستی میں کی گئی جنگ بندی کے بعد ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کو امریکہ ایران معاہدہ سبوتاژ نہیں کرنا چاہیے: ایردوآن
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ شرقِ اوسط میں امن کی کوششیں ...
بين الاقوامى -
حسام حسن کے جشن نے اسرائیل میں ایک طوفان کھڑا کر دیا
ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 16 کے لیے کوالیفائی کرنے کی مصری ٹیم کی تاریخی کامیابی کی گونج ...
بين الاقوامى