امریکہ میں شدید گرمی اور طوفانی موسم سے یومِ آزادی (4 جولائی) کی تقریبات متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ ہفتے کے روز اپنے یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ فضائی مظاہروں اور آتش بازی کے شاندار مظاہروں کے ساتھ منا رہا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تاریخی موقع پر اپنی خصوصی چھاپ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کے نیشنل مال میں روایتی آتش بازی کا مظاہرہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا، جہاں امریکہ کے بانی رہنماؤں کی یادگاریں واقع ہیں۔

تاہم اس سال یومِ آزادی کی تقریبات شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں۔ جمعے کو گرمی اپنی شدت پر پہنچ گئی، جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی، جس کے باعث امریکہ کے مختلف شہروں اور قصبوں میں تقریبات اور عوامی سرگرمیوں کے انتظامات متاثر ہوئے۔

دوبارہ حملے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگرچہ موسم کی گرمی پیش گوئی کے مطابق اتنی شدید نہیں رہی، تاہم واشنگٹن ڈی سی میں عوام کی بڑی تعداد موجود ہے۔

ٹرمپ نے اس موقع پر امریکی خواب کی تعریف کرتے ہوئے سابق امریکی صدور کو خراجِ تحسین پیش کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی شناخت کو ایک بار پھر حملوں کا سامنا ہے۔

واشنگٹن میں امریکہ کے 250ویں یوم آزادی کی تقریبات سے - 4 جولائی 2026 (رائٹرز)

انہوں نے ملک کے اندر موجود انتہاپسندوں اور شدت پسند عناصر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ ہماری سرزمین پر کمیونسٹ خطرہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔

شدید گرمی

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے اور محسوس ہونے والا درجہ حرارت 43 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کے باعث یومِ آزادی کی بعض تقریبات متاثر ہوئیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شدید گرج چمک والے طوفان کے خدشے کے پیش نظر نیشنل مال کو خالی کرا لیا گیا، جہاں ہفتے کے روز ایک بڑی تقریب منعقد ہونا تھی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب سے خطاب سے چند گھنٹے قبل تیز ہوائیں چلنا شروع ہو گئیں اور آسمان پر بجلی چمکنے لگی، جس پر حکام نے وہاں موجود افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

شدید گرمی کے باوجود صدر ٹرمپ نے تقریبات میں بھرپور شرکت جاری رکھی اور اس تاریخی موقع کو اپنی صدارت کے نمایاں عوامی مظاہرے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

جمعے کی شب ٹرمپ نے ریاست جنوبی ڈکوٹا میں واقع ماؤنٹ رشمور نیشنل میموریل کا بھی دورہ کیا، جہاں چٹان پر امریکہ کے چار سابق صدور، جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، ابراہم لنکن اور تھیوڈور روزویلٹ کے چہرے تراشے گئے ہیں اور اسی مقام سے خطاب بھی کیا۔

واضح رہے کہ 4 جولائی امریکہ کا یومِ آزادی ہے، جب 1776 میں تیرہ امریکی نوآبادیات نے برطانوی حکومت سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں