امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج جمعرات کے روز اعلان کیا کہ امریکہ یمن میں حوثیوں کی طرف سے کیے جانے والے کسی بھی نئے حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دے گا، نیز انہوں نے تہران اور خود اس تنظیم کے خلاف "بڑی عسکری سزا" کی دھمکی بھی دی۔
یہ بات انہوں نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہی، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ واشنگٹن نے ایک سال پہلے بحری تجارت میں جہازوں پر فائرنگ کے ذریعے مداخلت کرنے پر حوثیوں کے خلاف شدید حملہ کیا تھا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کے بعد کے عرصے میں اور ایران کے ساتھ تصادم کے دوران تنظیم نے "بڑی ذمہ داری" کا مظاہرہ کیا، لیکن امریکی صدر نے اشارہ کیا کہ انہوں نے گذشتہ رات دو سعودی جہازوں پر فائرنگ کر کے "دوبارہ شروعات کر دی ہے"۔
امریکہ کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی بات کو تنبیہہ کے طور پر "حقیقت" سمجھا جانا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا "اگر انہوں نے دوبارہ ایسا کیا تو امریکہ ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے گا، اس بنیاد پر کہ حوثی ایران کا نائب یا نمائندہ ہیں"۔
گذشتہ رات ایک سعودی کمپنی کا جہاز نشانہ بنا اور سعودی جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ ایک سعودی کمپنی کے جہاز (ENCELIA) کو بحر احمر میں سفر کے دوران نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی۔
ذرائع نے عملے کے تمام افراد کی سلامتی کی تصدیق کی اور یہ کہ متعلقہ حکام نے جہاز اور اس کے عملے کو محفوظ بنانے اور بحری ماحول کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔
سعودی عرب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے معاہدے کے مطابق اپنے جہازوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
کیونکہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین اور روایات کی خلاف ورزی ہیں جو تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی کی ضمانت دیتے ہیں۔
-
یمن: سعودی عرب کے تعاون سے مصنوعی اعضاء کے پروگرام سےلاکھوں متاثرین مستفید
مصنوعی اعضاء کی چار لاکھ 42 ہزار مفت خدمات کی فراہمی
مشرق وسطی -
سعودی عرب کے خلاف یمنی حوثیوں کے حملوں اور دھمکیوں کی مذمت
خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے منگل کے روز یمنی حوثی ملیشیا کی دھمکیوں ، حملوں ...
مشرق وسطی -
پاکستان کی سعودی عرب کے لیے حمایت کی تصدیق... اور جہاز رانی کے لیے حوثی خطرات کی مذمت
پاکستان نے سعودی عرب کی سکیورٹی، اس کی خود مختاری اور ارضی سالمیت کے لیے اپنے غیر ...
مشرق وسطی