بین الاقوامی فوجداری عدالت: استغاثہ کے سربراہ کریم خان کے مستقبل کا فیصلہ آج ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک جمعہ کے روز عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کو نامناسب جنسی رویے میں ملوث ہونے کے الزام میں عہدے سے ہٹانے کے لیے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

چھپن سالہ خان نے کسی بھی غلطی سے انکار کیا ہے جبکہ ان کے وکلاء نے عدالت کے انتظامی بورڈ کے اس فیصلے کو، جس کی وجہ سے جمعہ کو یہ مجوزہ رائے شماری ہونے جا رہی ہے، غیر قانونی، ضابطے کے لحاظ سے غیر منصفانہ اور شواہد کی حمایت سے محروم قرار دیا ہے۔

یہ رائے شماری عدالت کے خلاف امریکی تنقید میں اضافے کے جلو ہو رہی ہے جسے واشنگٹن اپنی خودمختاری کے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔

اگر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک خان کو برطرف کرنے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو ان کے حامی یہ سمجھیں گے کہ یہ ووٹ سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے کیونکہ پراسیکیوٹر نے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کے تحت اسرائیلی اعلیٰ عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی کوشش کی تھی۔

اسرائیل جنگی جرائم کے ارتکاب کی تردید کرتا ہے، وہ عدالت کا رکن نہیں ہے اور اس نے وارنٹ گرفتاری کو مسترد کرتے ہوئے انہیں باطل قرار دیا ہے۔

اگر رائے شماری ان کی برطرفی کی مخالفت میں بھی آتی ہے تو بھی خان کمزور پوزیشن میں رہیں گے اور اس سے اس عدالت کے مخالفین کو، جسے عالمی برادری نے جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر غور کرنے کے لیے سنہ دو ہزار دو میں قائم کیا تھا، اس پر تنقید کرنے کا ایک اور ذریعہ مل جائے گا۔

فلپائن کے دورے کے دوران جمعرات کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں کچھ مجنون اور ذہنی توازن سے عاری لوگ موجود ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ اس کے سامنے کسی بھی امریکی سیاسی یا فوجی عہدیدار کا مقدمہ چلایا جائے، اس طرح انہوں نے سابقہ تنقید کا اعادہ کیا۔

امریکہ، جو خود بھی عدالت کا رکن نہیں ہے، پہلے ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گیارہ ججوں اور پراسیکیوٹرز پر جن میں خان بھی شامل ہیں، پابندیاں عائد کر چکا ہے جس کی بنیاد عدالت کی طرف سے قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نتنیاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلانٹ کے خلاف جاری کردہ وارنٹ گرفتاری اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے رویے سے متعلق سابقہ تحقیقات ہیں۔

روئٹرز کی طرف سے دیکھی گئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالت کے انتظامی بورڈ کے حکام نے کہا ہے کہ خان کو برطرف کیا جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے ایک جونیئر خاتون ملازم کے ساتھ نامناسب طریقے سے جنسی تعلق قائم کرکے کام کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

کریم خان کی برطرفی کے نفاذ کے لیے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس کے دوران خفیہ رائے شماری میں ایک سو پچیس ارکان میں سے کم از کم تریسٹھ ممالک کی مطلق اکثریت کی منظوری درکار ہے۔

رائے شماری کا عمل مقامی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے کے قریب منعقد ہونا ہے جبکہ نتیجے کا اعلان مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کیے جانے کی توقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں