خلیج عدن میں یمنی پانیوں میں گذشتہ ہفتے اغوا ہونے والا تجارتی جہاز اب صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہے، یہ بات صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے دو رہائشیوں نے جمعرات کو رائٹرز کو بتائی۔
ایم ٹی اسانا نامی جہاز تنزانیہ کا پرچم بردار ایندھن اور کیمیکل کا ٹینکر ہے۔
رائٹرز سے بات کرنے والے ایک رہائشی نے خود کو سابق سمندری قزاق بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی اسانا پر عملے کے 20 ارکان سوار تھے جن میں آٹھ جرمنی اور دس فلپائن سے تھے۔
جرمن وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مقرر کردہ اصولوں کی بنا پر اس نے بیرونِ ملک مقیم جرمن شہریوں کے اغوا پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پنٹ لینڈ میں کالوولا کے دوسرے رہائشی نے بحری قزاقوں کو اغوا شدہ جہاز تک کھانا پہنچاتے ہوئے دیکھا۔
یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ خلیج عدن میں ایک بحری جہاز جس پر غیر مجاز اہلکار سوار تھے، کو چالاکی سے صومالیہ کے پانیوں میں لایا گیا اور اغواشدہ قرار دیا گیا تھا۔
صومالی قزاقوں نے 2008 اور 2018 کے درمیان راسِ افریقہ کے ملک کی طویل ساحلی پٹی کے پانیوں میں تباہی مچا دی تھی۔ کچھ سال خاموشی کے بعد 2023 کے آخر میں قزاقوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئیں۔