اقوام متحدہ کی قیادت کے لیے سات امیدواروں کے درمیان مقابلہ
یوگنڈا کے سفارت کار اولارا اوتونو اقوام متحدہ کے اگلے سیکریٹری جنرل کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ یوگنڈا نے باضابطہ طور پر ان کا نام پرتگال سے تعلق رکھنے والے موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کے جانشین کے طور پر پیش کیا ہے، جن کی دوسری مدتِ عہدہ رواں سال کے اختتام پر مکمل ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے سربراہان کو بھیجے گئے یوگنڈا کے خط کے مطابق اوتونو عالمی ادارے کی قیادت کے لیے مقابلہ کرنے والے ساتویں امیدوار بن گئے ہیں۔
75 سالہ اولارا اوتونو امیدواروں میں سب سے عمر رسیدہ ہیں اور انہیں اقوام متحدہ کے اندر طویل تجربہ حاصل ہے۔
وہ اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں، جبکہ بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اپنے وژن دستاویز میں اوتونو نے اقوام متحدہ کے اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے بڑی عالمی جنگوں اور تنازعات کے خاتمے کو ترجیح دینے پر زور دیا، جبکہ مصنوعی ذہانت کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک عالمی ادارہ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاہم کہا کہ اس کوشش میں معاشی ترقی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
اب تک سات امیدوار میدان میں
اولارا اوتونو کی نامزدگی کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے باضابطہ امیدواروں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ ان میں:
رافائل گروسی: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنر ل
میشیل باشیلیٹ :چلی کی سابق صدر
ریبیکا گرینسپان :کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر
ماریا فرناندا ایسپینوسا : ایکواڈور کی سابق وزیرِ خارجہ
کیرولین روڈریگیز برکیٹ : گیانا کی سابق وزیرِ خار جہ
مکی سال : سینیگال کے سابق صدر
اولارا اوتونو: یوگنڈا کے سفارت کارشامل ہیں۔
اس ہفتے سلامتی کونسل کے اندر غیر رسمی ووٹنگ کے مراحل شروع ہونے کا امکان ہے۔ سلامتی کونسل 15 ممالک پر مشتمل ہے اور اس عمل کا مقصد امیدواروں کی تعداد کم کرنا ہے تاکہ ایک ایسے نام پر اتفاق کیا جا سکے جسے حتمی منظوری کے لیے جنرل اسمبلی میں پیش کیا جائے۔
ابھی بھی نامزدگی کا عمل جاری ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں مزید امیدوار اس دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی بھی امیدوار واضح برتری حاصل نہیں کر سکا۔
تاہم یہ بحث بڑھ رہی ہے کہ اس بار لاطینی امریکہ کو یہ منصب ملنا چاہیے، جبکہ بعض حلقے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو سیکریٹری جنرل منتخب کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے انتخاب میں سب سے اہم عنصر یہ ہوگا کہ امیدوار سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس میں سے کسی کے ممکنہ ویٹو سے بچ سکے۔ اس کے بعد ہی اس کا نام باضابطہ منظوری کے لیے جنرل اسمبلی میں پیش کیا جا سکے گا۔