باخبر ذرائع نے اتوار کو ''العربیہ'' کو بتایا ہے کہ چین، پاکستان کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے حالات سازگار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ان رابطوں کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کے راستے کھلے رکھنا ہے، تاکہ مختلف متنازع امور پر بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مشاورت میں اعتماد سازی کے لیے باہمی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور تہران پر عائد پابندیوں سمیت اہم معاملات پر وسیع مذاکرات کے لیے مناسب ماحول پیدا کیا جا سکے۔
علاقائی ممالک کو شامل کرنے کی کوشش
ذرائع کے مطابق چین کی کوششیں صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتوں کو بھی ایک ایسے سیاسی عمل میں شامل کرنا ہے ،جس کا ہدف خطے میں طویل المدتی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے ،جب خطہ غیر معمولی فوجی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے ایرانی اہداف پر حملے جاری ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سیاسی پیغامات کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے، تاہم ابھی تک براہِ راست مذاکرات کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل تہران نے آج اتوار کو تصدیق کی تھی کہ وہ ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران نے سفارتی حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں جسے وہ امریکی بالادستی قرار دیتا ہے، اسے قبول نہیں کرے گا۔