برازیل نے امریکہ کے دو عہدے داروں کو ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ انکار برازیلی انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم کے باعث کیا گیا ہے۔ مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے مطابق دو امریکی عہدے داروں کی ویزوں کی درخواست مسترد کرنے کی وجہ برازیلی انتخابی عمل کو کسی قسم کے مشتبہ عمل سے محفوظ رکھنے کی کوشش بنی ہے۔
برازیلی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ' ہ معاملہ حساس ہے۔ کہ امریکی عہدے دار اکتوبر میں متوقع صدارتی انتخاب کے لیے ایک بار برازیل آنا چاہتے تھے۔' یاد رہے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر لولا ڈا سلوا کو اگلے صدارتی انتخاب میں دائیں بازو کے سینیٹر فلاوائیو بولسونارو کا سامنا کرنا ہوگا۔
صدر کے مقابل دائیں بازو کے سینیٹر امریکی صدر ٹرمپ کے اتحادی اور برازیل کے ایک سابق صدر کے بیٹے ہیں۔ تاہم لولا ڈا سلوا نے انہیں پچھلے صدارتی انتخاب میں ہرا دیا تھا۔
برازیل کی طرف سے جاری انتخابی منظر نامی کے پیش نظر امریکی عہدے داروں کو ویزے دیے جانے سے انکار جمعہ کے روز کیا گیا ہے۔ امریکی وفد میں معاون وزیر ریلے ایم بارنز اور بیورو آف ڈیمو کریسی کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری سموئل سیمسن شامل تھے۔
برازیلی حکام کے مطابق امریکی وفد کے ویزے مسترد کرنے کی وجہ اس انتخابی موقع کو سیاسی حوالے سے استعمال کیے جانے کو روکنا بنی ہے۔
ہفتے کی رات دیر گئے امریکی دفتر خارجہ نے کہا امریکی حکام 27 جولائی سے 30 جولائی کے دوران برازیل جانا چاہتے تھے تاکہ برزایلی حکام کے ساتھ مل سکیں۔ برازیل کے مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اہم عہدے داروں سے بھی ملاقات کرنا تھی۔ تاکہ برازیل میں مذہبی و سیاسی آزادیوں کی بات کرنا تھی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا امریکہ کے عہدے داروں کے ایسے دورے معمول کے مطابق مختلف ملکوں کے کرنے کی روایت پرانی ہے۔ اس لیے برازیل کی طرف سے اس بارے میں درست پوزیشن نہیں لی گئی۔
اہم بات ہے کہ بائیں بازو کے صدر لولا ڈا سلوا کے مد مقابل دائیں بازو کے صدارتی امیدوار نے امریکی وفد کو ویزوں سے انکار کیے جانے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ امریکی وفد کے برازیل جانے کی اطلاع پہلے واشنگٹن پوسٹ کے توسط سے سامنے آئی ۔ بعد ازاں اس کی تصدیق سرکاری طور پر بھی کر دی گئی۔
واضح رہے امریکہ جسے دوسرے کئی ملکوں میں رجیم تبدیلوں کے الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے لاطینی امریکہ کے ملکوں میں امریکی سیاسی و انتخابی مداخلت کی بات کی جاتی ہے۔ جیسا کہ ٹرمپ انتطامیہ نے حال ہی میں کولمبیا کے نومنتخب صدر کی مکمل حمایت کی ہے۔ اسی طرح ارجنٹینا کے صدارتی انتخاب میں بھی ایک کی حمایت کی ہے۔
انتخابی عمل کی ساکھ خراب کرنے کی نئی کوشش
سابق فوجی کپتان اور دائیں بازو کے شعلہ بار لیڈر جیر بولسونارو کئی بار برازیلی صدارتی انتخابات کے نظام کی ساکھ پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ ان کے یہ بیانات 2022 کے انتخابات کے دوران سامنے آئے تھے۔
واضح رہے امریکہ کی جوبائیڈن انتظامیہ کے ہوتے ہوئے سی آئی اے ڈائریکٹر نے بولسو نارو سے کہا تھا کہ وہ انتخابی نظام کو مشکوک بنانے کی کوشش نہ کریں۔
صدارتی انتخاب جس میں لولا ڈا سلوا جیت گئے تھے، ان کی جیت سے پہلے بولسونارو غیرملکی سفیروں کو بلا بلا کر انتخابی نظام کے بارے میں مختلف الزام لگاتے رہے تھے۔ ان کی ان کوششوں نے بعد ازاں انہیں ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے 2030 کے انتخابات سے پہلے انتخابی عمل سے آؤٹ کر دیا ہے۔ بعد ازاں انہیں 27 سال کی سزائے قید بھی سنائی گئی اور گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
اب ان کا بیٹا برازیل کے صدارتی انتخاب کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا بھی بروئے کار ہے۔ انہوں نے پچھلے ہفتے درجنوں سفارت کاروں کو ایک تقریب میں مدعو کیا اور اس بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے صدارتی انتخاب کی مانیٹرنگ کے لیے غیر ملکی شخصیات کو دعوت دی۔
اسی بریفنگ کے دوران برازیل کے دائیں بازو کے امیدوار نے امریکی ساختہ الیکٹورل مشیینوں کے ذریعے انتخابی دھاندلی کی بھی اطلاع دی۔