درعا کے نواحی علاقے حوضِ یرموک میں اسرائیلی فوج کی نئی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے مغربی دیہی ضلع درعا کے حوضِ یرموک علاقے میں اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایک نئی زمینی کارروائی کرتے ہوئے متعدد فوجی گاڑیوں کے ساتھ الجزیرہ فوجی چوکی سے پیش قدمی کی اور معریہ گاؤں کی جانب داخل ہو گئی۔

شامی خبر رساں ایجنسی ''سانا ''کے مطابق اسرائیلی فوج نے معریہ گاؤں اور فوجی چوکی کے درمیان سڑک پر اپنی پوزیشنیں قائم کیں، جس کے بعد العارضہ گاؤں جانے والی سڑک کھول کر مقامی شہریوں کے متعدد گھروں کی تلاشی شروع کر دی۔

یہ کارروائی گزشتہ روز ہونے والی اسی نوعیت کی پیش قدمی کے بعد سامنے آئی ہے، جب اسرائیلی فوج حوضِ یرموک کے علاقے میں داخل ہو کر معریہ اور العارضہ دیہات تک پہنچ گئی تھی۔

اس دوران العارضہ گاؤں میں ایک عارضی فوجی چوکی قائم کی گئی اور رہائشیوں میں ایسے پمفلٹس تقسیم کیے گئے ،جن میں اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت میں مداخلت نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔

ادھر اتوار کو اسرائیلی فوج نے معریہ گاؤں کے وسط میں نصب ایک بجلی کے ٹرانسفارمر کو بھی نشانہ بنایا، جس سے وہ ناکارہ ہو گیا اور گاؤں کے بیشتر گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران درعا کے مغربی دیہی علاقے حوضِ یرموک میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

متعدد سرحدی دیہات میں بار بار زمینی دراندازی، تلاشی کی کارروائیاں اور عارضی فوجی چوکیاں قائم کیے جانے کے باعث علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

شام مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ اسرائیلی افواج اس کی سرزمین سے فوری انخلا کریں۔

شامی حکومت کا مؤقف ہے کہ جنوبی شام میں اسرائیل کے تمام اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی، کالعدم اور بے اثر ہیں اور عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسرائیل کو ان کارروائیوں سے روکنے اور جنوبی شام سے مکمل انخلا پر مجبور کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں