امریکہ اور ایران کی جانب سے حملے معطل کرنے کے اعلان کے بعد ایران میں مسلسل تیسری رات بھی کوئی امریکی حملہ نہیں ہوا۔
اسی دوران اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو ''کچھ گنجائش'' دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران نے بھی خطے کے ممالک پر اپنے حملے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو کچھ موقع دیں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی مکمل تیاری برقرار رکھی جائے گی۔
مسلسل 13 راتوں تک حملے
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے جاری کشیدگی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کو شدید متاثر کیا۔
امریکہ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی مہم شروع کی، جبکہ ایران کے جوابی اقدامات کے باعث تنازع سمندری تجارتی راستوں اور خطے کے دیگر ممالک تک پھیل گیا۔
جمعہ سے قبل امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مسلسل 13 راتوں تک ایران میں اہداف پر حملے کیے۔ یہ کارروائیاں اپریل میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سب سے بڑی فوجی مہم قرار دی گئیں۔ تاہم جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی رات کوئی امریکی فضائی حملہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے اتوار کو کہا:چونکہ ہماری حکمتِ عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی ہے، اس لیے امریکی حملے رکنے کے بعد ہم نے بھی اپنی انتقامی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
دوسری جانب، فوجی کارروائیوں میں اس عارضی وقفے نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔
تاہم بعض امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حملوں کی معطلی کی ایک ممکنہ وجہ امریکا کے پاس پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر دفاعی نظاموں کے ذخائر پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔
ذخیرۂ اسلحہ میں کمی؟
امریکی اخبار ''نیویارک ٹائمز'' نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا منصوبہ ترک کر دیا، جس کی ایک وجہ اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی بھی بتائی گئی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ''وال اسٹریٹ جرنل'' کو دیے گئے انٹرویو میں اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا:ہمارے پاس دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے، بلکہ ہماری ضرورت سے بھی کہیں زیادہ۔
ادھر امریکی سفیر مائیک والٹز نے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بھی امریکی ہتھیاروں کی قلت کی خبروں کی تردید کی۔
انہوں نے کہا:میں بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے ہر سطح پر اس کی تصدیق کی ہے اور امریکی فوج کے پاس اس مہم کو مطلوبہ مؤثر انداز میں جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری وسائل اور اسلحہ موجود ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی اہم ملاقات کل متوقع
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جہاں توقع ہے کہ وہ ایران کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھنے، خصوصاً اس کے جوہری پروگرام کے معاملے پر، ٹرمپ پر زور دیں گے۔
فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا:اگر صدر ٹرمپ شدید فوجی کارروائیوں کی طرف واپس گئے بغیر یہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں تو یہ بہترین بات ہوگی، کیوں نہیں؟ لیکن ایک نہ ایک طریقے سے ایران کا جوہری پروگرام ختم ہونا چاہیے، چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، اس معاملے کا خاتمہ ضروری ہے۔