اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کو مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے موقع دینا چاہتے ہیں۔ امریکی سفیر نے اس امر کا اظہار 'فاکس نیوز' کے ساتھ گفتگو میں کیا ہے۔
سفیر مائیک والٹز نے اتوار کے روز نشر کیے گئے انٹرویو میں کہا صدر ٹرمپ بات چیت کے لیے کچھ مہلت دینا چاہتے ہیں۔ تاہم سفیر نے اس سلسلے میں تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔ تاہم کہا اختتام ہفتہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے ٹھنڈ پڑنے کے لیے اہم ہے۔
پینٹا گون نے جنگ کے دوسرے مرحلے میں 13 دنوں کی کشیدگی کے بعد ایران پر حملے روک دیے ہیں۔ اختتام ہفتہ کے روز ایران کے اس کے پڑوسیوں کے خلاف حملوں کی بھی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک سینیئر عہدے دار سے جب اس جنگی وقفے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا صدر کو اچھی طرح اس بات کا اندازہ ہے کہ سفارت کاری کو ترجیح حاصل ہے۔ لیکن انہوں نے ایران کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ اگر اس نے مذاکرات اور سفارتی کوششوں سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر کیا ہوگا۔
ایران کے ایک سینیئر ذریعے کے مطابق اتوار کے روز ایران نے بھی خلیجی ملکوں پر اپنے حملے کرنا روک دیے ہیں۔ تاہم ایران امریکہ کے اعلانات اور اس کے ارادوں کے بارے میں شکوک وشبہات رکھتا ہے۔ اس ذریعے کا کہنا تھا ایران کی پوزیشن بڑی واضح ہے حملے کے بدلے میں حملہ کیا جائے گا۔ یہ پیغام پہلے ہی امریکہ کو بھیجا جا چکا ہے۔ اس ایرانی ذریعے نے 'روئٹرز' کو بتایا۔
ذرائع نے مزید کہا حملوں میں ہونے والے وقفے سے پر امیدی کی بجائے شکوک و شبہات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ عام تاثر بھی یہی پایا جاتا ہے کہ یہ وقفہ حقیقی نہیں محض حکمت عملی کا حصہ ہے۔
نیز نیو یارک ٹائمز اور سی این این نے بھی رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کو مزید فوجی اقدامات کے ذریعے بڑھانے کے منصوبوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ جمعہ کے روز کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مشیروں کو یہ تشویش بھی تھی کہ خطے میں امریکی اڈوں کے تحفظ کے باعث امریکی دفاعی میزائل کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ سی این این کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔