کیا ٹرمپ نے سینٹ کام کمانڈر کی سفارش پر ایران پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جوابی حملے رکنے کے ساتھ ہی آکسیس ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے آبنائے ہرمز کے گرد و نواح میں امریکی بمباری مہم روکنے کی سفارش کی تھی اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ مہم اپنی تاثیر کی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔

دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ کوپر کی سفارش کے علاوہ دیگر مشوروں کی آراء نے بھی جمعہ کے روز ایران کے خلاف امریکی حملے معطل کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر اثر ڈالا۔ آکسیس کے مطابق اس سے ٹرمپ کے عسکری مشیروں کا یہ اعتراف ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری کارروائی کے ذریعے جو کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے اس کی ایک حد ہے، خصوصاً ایسی مہم کے معاملے میں جو فضائی طاقت پر انحصار کرتی ہے۔

دو ہفتوں میں پہلی بار ٹرمپ نے سینئر مشیروں اور عسکری کمانڈروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد امریکی فوج کو ایرانی اہداف اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں حملے روکنے کی ہدایات جاری کیں، جس دوران آپریشنز کا خصوصی پلان پیش کیا گیا۔

میٹنگ سے پہلے کے دنوں میں ٹرمپ وسیع پیمانے پر جنگی کارروائیوں کی بحالی کی طرف مائل تھے، تاہم امریکی ویب سائٹ کو دونوں ذرائع کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق جمعرات کی شام ان کا رخ بدلنا شروع ہوا، یہاں تک کہ جمعہ کے روز آبنائے ہرمز میں بمباری مہم بند کرنے کا ان کا فیصلہ پختہ ہو گیا۔

امریکی مشاورت کے پس منظر

مشاورت کے پس منظر میں دونوں ذرائع نے واضح کیا کہ ایڈمرل کوپر نے ہفتے کے شروع میں امریکی وزارت جنگ (پینٹاگان)، جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور وائٹ ہاؤس کو اپنی سفارشات پیش کیں جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دو ہفتے تک جاری رہنے والے حملوں نے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے۔

کوپر نے مزید کہا کہ بمباری کے لیے مخصوص کیے جانے والے زیادہ تر اہداف پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں۔ باقی بچ جانے والے عسکری آپشن میں ان تقریبا بیس فیصد اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع جنگی کارروائیوں کی طرف واپس جانا ہے جو امریکی فوج کی طرف سے طے کیے گئے تھے لیکن " ایپک فیوری" آپریشن کے دوران انہیں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔

جبکہ دونوں ذرائع کے مطابق سینٹ کام کے کمانڈر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر وسیع پیمانے پر عسکری کارروائیوں کی طرف واپسی کا فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے تو جس طرح پچھلے دو ہفتوں کے دوران بمباری مہم چلائی گئی تھی اسے جاری رکھنے کی کوئی عسکری افادیت نہیں ہوگی۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

اسی سلسلے میں دونوں ذرائع نے بتایا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بند کمرے کے اجلاسوں میں وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور صدر ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ فضائی دفاعی میزائلوں اور انٹرسیپٹر نظام کی کمی خطے میں اپنی افواج اور حلفیوں کے تحفظ کی امریکہ کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں - 21 جولائی 2026 رائٹرز
ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں - 21 جولائی 2026 رائٹرز

سفارتی راستے

علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے ’این بی سی‘ نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ تمام آپشنز کھلے رکھ رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھنے کے لیے جگہ دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے تمام سطحوں پر جاری ہیں۔

اسی تناظر میں ایک ایرانی سینئر ذریعے نے اتوار کے روز رائیٹرز کو بتایا کہ اگر امریکہ اپنے حملے معطل رکھتا ہے تو تہران اپنے حملے روک دے گا، لیکن تہران اب بھی واشنگٹن کے ارادوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہے۔ انہوں نے تیرہ راتوں کے مسلسل حملوں کے بعد واشنگٹن کے حملے معطل کرنے کے ایک دن بعد مزید کہا کہ ایران کا موقف اب بھی جوابی کارروائی کا ہے: اگر حملے رک جاتے ہیں تو ایران بھی اپنی کارروائیاں روک دے گا۔ ہم نے یہ پیغام امریکہ تک پہنچا دیا ہے۔

یہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران نے پاکستان اور قطر کی طرف سے مذاکرات کی بحالی کے مقصد سے پیش کردہ تجویز پر اپنے جوابات جمع کرا دیے۔ جیسا کہ العربیہ / الحدث کے ذریعے ایک ذریعے نے بھی ذرائع کےحوالے سے اس کی تصدیق کی ہے۔

جبکہ العربیہ / الحدث کے ذریعے اتوار کے روز ایک ذریعے نے بتایا کہ ایران نے پاکستانی حکام کو مطلع کیا ہے کہ اس نے مذاکرات سے دستبرداری اختیار نہیں کی ہے بلکہ انہیں معطل کیا ہے۔ اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق بات چیت جاری رکھنے کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کی ہے۔

اس کے علاوہ تین ذمہ دار ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ آبنائے ہرمز اور دونوں فریقوں کے زیر انتظام آبی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر سلطنت عمان اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں