ایران نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ وہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
تہران نے ایک بار پھر سفارتی حل کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں واشنگٹن کو ''بالادستی ''قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے، جبکہ ثالث بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ''رائٹرز'' کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کے ذرائع کھلے ہوئے ہیں۔
اسی دوران ایران کے نائب وزیرِ خارجہ اور مرکز برائے سیاسی و بین الاقوامی مطالعات کے سربراہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ایران بحرانوں کے حل کے لیے حقیقی سفارت کاری اور منصفانہ مذاکرات کا پابند ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران اب بھی سیاسی راستوں کی حمایت کرتا ہے۔خطیب زادہ نے یہ بیان جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) اور جنوب مشرقی ایشیا کے دوستی و تعاون کے معاہدے کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران دیا۔
انہوں نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں پر حملہ کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی نظام کی بنیاد رکھنے والے اصولوں کی بار بار خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جبکہ ان کے مطابق سفارت کاری کو بھی کم اہم سمجھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی پُرامن آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایران کسی بھی صورت میں امریکا کو خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں آبی راستوں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران بھی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی طرح اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ دنوں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد بین الاقوامی بحری آمدورفت کا تحفظ اور خطے میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کو روکنا ہے۔
اگرچہ فوجی کشیدگی بدستور جاری ہے، تاہم دونوں ممالک کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ رابطوں کے ذرائع اب بھی قائم ہیں۔
تاہم اب تک نہ تو باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی سمجھوتے کی جانب پیش رفت سامنے آئی ہے۔