.

مصر براہ راست کوریج کے دوران مظاہرین کی صحافیہ سے ناشائستہ حرکات

عملے کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر ٹی وی چینل کا شدید احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں جہاں ما بعد انقلاب معاشرے میں اخلاقی قدروں کی مضبوطی کا تاثر ابھر رہا ہے، وہیں اجتماعی طور پر بعض ایسی غیر اخلاقی حرکات بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں جن سے سنجیدہ فکری کی نفی ہوتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ فرانسیسی ٹی وی ’’فرانس 24‘‘ کی ایک نوجوان خاتون نامہ نگار کے ساتھ پچھلے جمعہ کو اس وقت پیش آیا جب وہ انقلاب مصر کی علامت میدان تحریر میں ایک احتجاجی مظاہرے کی لائیو رپورٹنگ کر رہی تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی ٹی وی کی نامہ نگار سونیا دریدی نے میدان تحریر میں لوگوں کے ھجوم کے ہاتھوں مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر سخت احتجاج کیا ہے۔ سونیہ نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی فوٹیج بھی دکھائی ہے جس میں مظاہرے کی کوریج کے دوران اس کے آس پاس اوباش نوجوانوں کی بڑی تعداد کو جمع اور بعد ازاں اسے چھو کر گذرتے دکھایا گیا ہے۔



سونیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ٹی وی کے لیے میدان تحریر میں احتجاجی مظاہرے کی کوریج کر رہی تھی کہ اسے لوگوں کے ایک ھجوم نے گھیر لیا، اس نے بچنے کی کوشش کی لیکن نوجوان اسے دانستہ طور پر چھو کر گذرتے رہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق دریدی کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے حصار میں گھِر جانے کے بعد اس نے بچنے کے لیے لائیو کوریج روک دی لیکن نوجوان پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے۔ بعد ازاں ایک دوسری صحافی نے آ کر اسے ھجوم سے باہر نکالا اور اس کی جان بچائی۔

سونیا دریدی الجیرین نژاد فرانسیسی شہری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لوگوں کے ھجوم میں گھر جانے کے باعث مجھے یہ پتہ تک نہیں چل سکا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ایک شخص نے میری قمیض کے کھلے بٹن بند کرنا شروع کر دیے تب مجھے احساس ہوا کہ میری قمیض کے بٹن بھی کھول دیے گئے تھے، تاہم گلے میں لٹکائے صلیب کی علامت سے بٹن ٹوٹنے سے بچ گئے تھے۔ متاثرہ صحافیہ کا کہنا ہے کہ اس نے لوگوں کے ھجوم سے باہر نکلنے کے بعد ایک مقامی ریستوران میں پناہ لینا مناسب سمجھا۔

سونیا کا کہنا ہے کہ وہ مصر کی عدالت میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی انکوائری کے لیے ایک پٹیشن بھی دائر کرنے والی ہیں جبکہ اس کے ٹی وی چینل نے ہراساں کیے جانے کی ویڈیو بار بار چلا کر بھی اس پر احتجاج کیا ہے۔ ٹی وی رپورٹس اور تبصروں میں کہا جا رہا ہے کہ کسی صحافیہ کے ساتھ ایسا سلوک آزادی اظہار رائے پر قدغن کے مترادف ہے، کیونکہ گھٹن کے اس ماحول میں کوئی صحافی آزادانہ طور پر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام نہیں دے سکتا۔

خیال رہے کہ مصر میں ما بعد انقلاب کسی خاتون صحافیہ کے ساتھ پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ امسال جولائی میں بھی سابق صدر حسنی مبارک کےخلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران کئی خواتین رپورٹروں کو مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا تھا۔ ہراساں کیے جانے والے بعض واقعات تو جنسی حملے کے زمرے میں آتے ہیں تاہم مصری حکومت کی تمام تر یقین دہانیوں کے علی الرغم کسی شخص کو حراست میں بھی نہیں لیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر شہریوں نے سونیہ دریدی کے ساتھ پیش آئے واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو ایسے مقامات سے رپورٹنگ کرنے اجتناب برتنا چاہیے، ان سے کسی غیر اخلاقی طرز عمل روا رکھے جانے کا خدشہ ہو۔