.

ایرانی جنرل کا دورہ مصر، وزیر داخلہ کے لئے بھاری ثابت ہوا

جنرل سلیمانی نے مصر کو سیکیورٹی ادارے قابو کرنے کے گر سکھائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے وزیر داخلہ جنرل احمد جمال الدین کی سبکدوشی سے متعلق اندرون خانہ واقفان حال نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل احمد نے صدر محمد مرسی کے مشیر عصام الحداد اور ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس بریگیڈ کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے درمیان خفیہ ملاقات پر اعتراض کرتے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کی داخلی سلامتی سے متعلق ایرانی امداد کا حصول حکمران جماعت اخوان المسلمون کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

مؤقر اخبار 'المصری الیوم' نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کا مقصد مصری انٹلیجنس نیٹ ورک کو ترقی دینا ہے۔ ایرانی جنرل سلیمانی نے ملک میں سیکیورٹی اداروں پر حکومتی کنڑول سے متعلق تہران کے تجربات سے مصری حکام کو آگاہ کیا۔ اس کے جواب میں ملاقات میں مصری حکومت کے نمائندوں نے ایرانی تجربے کو مصر میں لاگو کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقات کا مقصد امریکا کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر واشنگٹن نے مصری امداد بند کی کوشش کی تو وہ ایران جیسے ملک کو اتحادی بنانے میں دیر نہیں لگائے گا۔

مصری ایوان صدارت نے الحداد اور سلیمانی کے درمیان ملاقات کی تردید کی ہے جبکہ برطانوی اخبار "ٹائمز" نے تصدیق کی ہے کہ القدس بریگیڈ کے سربراہ مصر کی سرکاری دعوت پر قاہرہ آئے اور وہاں صدر مرسی کے بیرونی امور کے مشیر سے ملاقات کی۔

اخبار کے مطابق مصری حکومت نے ملکی امور پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی خاطر ایران سے خفیہ معاونت چاہی۔ بہ قول اخبار اس ملاقات میں ایرانی حکام نے اپنے مصری ہم منصبوں کو سیکیورٹی اور انٹلیجنس کے اداروں کی ترتیب کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ کیونکر ایسے حساس قومی اداروں کو فوجی کنٹرول سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔

اس ملاقات سے مصر کے حلیفوں میں قاہرہ اور تہران کی قرابت سے متعلق خوف پیدا ہوا ہے۔ مکتب الارشاد کے ایک رکن کے حوالے سے اخبار نے بتایا کہ "اس ملاقات کا مقصد امریکا کو مصر کے نئے متوقع اتحادیوں کی جھلک کرانا تھا۔" ادھر اخوان المسلمون کے میڈیا ترجمان محمود غزلان نے برطانوی اخبار کی رپورٹ کو قطعی طور پر بے بنیاد اور لغو قرار دیا ہے۔