.

خلیجی ملکوں میں دوران ڈرائیونگ خواتین کا 'نقاب' قابل جرمانہ فعل قرار

جی سی سی رکن ملکوں کے لئے یکساں ٹریفک قوانین کا مسودہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ملکوں میں ٹریفک قوانین کا متحدہ نظام نافذ کیا جائے گا۔ مجوزہ نظام میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جی سی سی ملکوں میں یکساں شرح سے جرمانے عاید کئے جائیں گے۔ مجوزہ ٹریفک قوانین میں خواتین کا دوران ڈرائیونگ چہرہ ڈھانپا قابل جرمانہ جرم ہو گا۔ مسودے میں گاڑی صاف نہ ہونا اور اس سے ہاتھ اور سر باہر نکالنا بھی قابل جرمانہ فعل قرار دیئے گئے ہیں۔

سعودی اخبار "الوطن" کے مطابق جی سی سی رکن ملکوں کے محکمہ ٹریفک کے عہدیداروں کے گزشتہ روز جدہ میں ہونے والے اجلاس میں سلطنت عمان کی جانب سے رکن ملکوں کے لئے یکساں ٹریفک قوانین اور جرمانوں پر مشتمل تفصیلی گائیڈ بک پیش کی تھی۔ اجلاس میں مشترکہ ٹریفک قوانین کے مسودے کی منظوری بھی دیا جانا تھی لیکن اسے دوسرے ملکوں کا فیڈ بیک حاصل کرنے کے لئے باقاعدہ مشتہر کیا گیا ہے۔

خلیجی ملکوں کے لئے مجوزہ یکساں ٹریفک قوانین کے مسودے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو چودہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 339 قسم کے جرمانے کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

ادھر کویتی وزارت داخلہ نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 1285 غیر ملکیوں کو کویت سے نکال دیا۔ یہ فیصلہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روزمرہ کا معمول سمجھنے والے تمام تارکین وطن کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔

روزنامہ ’’ٹیلی گراف‘‘ جیسے مغربی اخبارات نے ٹریفک ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے پر 'ڈی پورٹ' کرنے کو سخت ترین سزا قرار دیا ہے۔ اخبار نے رائے ظاہر کی ہے کہ کویت کو بھی ساری دنیا کی طرح لوگوں کو ٹریفک ضوابط کا احترام سیکھانے کی غرض سے 'پوائنٹ سسٹم' متعارف کروانا چاہیے۔

سماجی اور لیبر امور کی وکیل ذکری الرشیدی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی آگاہ کیا گیا تھا کہ کویت میں دس لاکھ غیر ملکی مزدور کام کر رہے ہیں۔ سالانہ ایک لاکھ مزدوروں سے نجات حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا تاہم بعد میں اس سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق غیر ملکیوں کو تعداد کم کرنے کے لیے بعد میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے اس نئے قانون کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے غیر ملکیوں کو اس طریقے سے کویت سے نکالے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے تارکین وطن کے سکونتی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی کویتی انجمن نے ڈی پورٹ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اس طرح کی کارروائیاں فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن کویت کے ایک اعلی عہدیدار نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کی جانے والی تنقید کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کویت ایک مہمان نواز ملک ہے لیکن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی غیر ملکی کی آؤ بھگت پر مجبور نہیں ہوا جا سکتا۔ بالخصوص اس صورت میں جب ٹریفک قوانین کی کوئی بھی سنگین خلاف ورزی سڑک پر چلنے والے بے گناہ شہری کی جان لینے کا باعث بن جانے کا خطرہ ہو۔

ایک اعلی کویتی عہدیدار نے اپنا ظاہر کیے بغیر بتایا کہ یہ فیصلہ ظالمانہ نہیں ہے۔ یہ صرف برائی کرنے والوں کا تعاقب کرتا ہے تاہم ہر وہ شخص کو قانون کا احترام کرتا ہے اسے کسی قسم کی سزا سے بچا رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزمرہ ٹریفک کی بعض خلاف ورزیاں معمول کا حصہ ہوتی ہیں جیسے ممنوعہ مقام پر گاڑی کھڑا کرنا یا اور کوئی چھوٹی موٹی خلاف ورزی، اس طرح کی غلطیوں پر کسی غیرملکی کو ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا۔

کویتی وزارت داخلہ میں میجر جنرل عبد الفتاح العلی اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ کویت میں مقیم ہر وہ غیر ملکی جو ریڈ سگنلز کو توڑنے گا، یا غیر قانونی طور پر مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرے گا، گاڑی مقررہ رفتار سے تیز چلائے گا تو اسے بغیر کسی عدالتی ٹرائل کے واپس اپنے ملک روانہ کردیا جائے گا۔