شامی برقی فوج کے ٹویٹر اور امریکی نیوز ویب سائٹس پر حملے

صدر اسد کے حامی ہیکروں نے نیویارک ٹائمز اور ٹویٹر کی سائٹس کو ہیک کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی حکومت کے حامی ہیکروں نے آسٹریلیا میں قائم ایک انٹرنیٹ کمپنی میں دراندازی کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز، ہفنگٹن پوسٹ اور ٹویٹر جیسے بڑے میڈیا اداروں کی ویب سائٹس کو ہیک کر لیا اور ان کا گذشتہ روز(منگل کو) اپنی ویب سائٹس پر کنٹرول نہیں رہا تھا۔

شامی برقی فوج نے ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے مختصر پیغامات میں ان و یب سائٹس کو ہیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ شامی صدر بشارالاسد کا حامی یہ گروپ ماضی میں العربیہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی ہیک کرچکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ پورے ایک گھنٹے تک بند رہی تھی اور شامی گروپ اس کو دیکھنے والے ناظرین کو ایک ایسی سائٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کاری کررہے تھے جو ان کے کنٹرول میں تھی۔

شامی برقی فوج کے ہیکروں نے آسٹریلیا میں قائم انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنی ملیبورن آئی ٹی کے سرور میں دراندازی کی اور پھر وہ ٹویٹر ڈاٹ کام اور نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آسٹریلوی کمپنی ہی ان دونوں میڈیا اداروں کے ڈومین نام کا انتظام کرتی اور انھیں خدمات مہیا کرتی ہے۔

شامی برقی فوج نے یہ کارروائی امریکا کی جانب سے شام کے خلاف کیمیائی حملوں کے جواب میں ممکنہ فوجی چڑھائی کی اطلاعات منظرعام پر آنے کے بعد کی ہے۔شامی ہیکروں کے حملے میں ہفنگٹن پوسٹ کا برطانیہ میں ایڈریس متاثر ہوا تھا جبکہ ٹویٹر نے ڈیڑھ گھنٹے تک اپنی سائٹ کے ہیکروں کے قبضے میں رہنے کا اعتراف کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ حملے میں کسی ذاتی ڈیٹا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ٹویٹر کا کہنا ہے کہ ''بظاہر مختلف اداروں کے ڈی این ایس (ڈومین نیم سسٹم) ریکارڈ کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ ان میں ٹویٹر کا ایک ڈومین بھی شامل ہے جو تصاویر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ہیکروں کے حملے میں اس کو نقصان پہنچا ہے''۔شامی برقی فوج نے ایک ای میل میں اس حملے کی تصدیق کی ہے۔

سائبر سکیورٹی فرم مکافی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر مائیکل فے کا کہنا ہے کہ میڈیا ادارے نقاد کے طور پر اثر انداز ہونے کے کردار کے حامل ہیں، اس لیے ان پر سائبر حملے جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور احتیاطی تدابیر کے باوجود ہیکروں کے حملے روکے نہیں جاسکے۔

واضح رہے کہ مارچ اور اپریل 2012ء میں العربیہ نیوز چینل کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کو شامی برقی فوج نے ہیک کر لیا تھا اور ان پر چینل سے منسوب غلط خبریں پوسٹ کردی تھیں۔ ان شامی ہیکروں نے صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح عوامی تحریک کی کوریج کرنے اور ان کی فوج کے سفاکانہ مظالم کو منظرعام پر لانے پر العربیہ کے سماجی روابط کی ویب سائٹس پر اکاؤنٹس پر متعدد مرتبہ حملےکیے ہیں اور العربیہ کے صفحات ہیک کرنے کے بعد اس کی ذمے داری قبول کی تھی۔ انھوں نے ان ویب سائٹس پر اپنے پیغامات پر مبنی عربی اور انگریزی زبان میں تحریریں بھی پوسٹ کردی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں