.

لیبیا: سیف الاسلام قذافی کو جنگی جرائم کی عدالت کےحوالے کرنے سے انکار

بدامنی برھ جائے گی، سیف کی جان کو خطرہ ہو گا: لیبیائی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکومت نے سابق حکمران مقتول معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو جنگی جرائم کی عالمی عدالت کے حوالے کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ ایسا کرنے سے ملکی حالات میں مزید بگاڑ آ سکتا ہے، نیز سیف الاسلام کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں جنگی جرائم کو ڈیل کرنے والی بین الاقوامی عدالت کی پراسیکیوٹر نے لیبیا کی حکومت کے سامنے اپنے اس مطالبے کو ایک مرتبہ پھر دہرایا تھا کہ سیف الاسلام کو جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کیلیے عدالت کے حوالے کیا جائے۔

بین الاقوامی کریمنل کورٹ کی پراسیکیوٹر کی طرف سے یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے توسط سے سامنے آیا تھا کہ لیبیا کو ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے۔ پراسیکیوٹر نے معمر قذافی کے بیٹے اور خاندان سے متعلق ایسے شواہد بھی فراہم کرنے کیلیے کہا تھا جو جنگی جرائم سے متعلق ہوں۔

واضح رہے سیف الاسلام قذافی کو ایک سابقہ باغیوں کے ایک بریگیڈ نے گرفتار کیا تھا۔ اس بارے میں انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ سیف کے خلاف لیبیا میں منصفانہ بنیادوں پر مقدمہ چلنا ممکن نہیں ہے۔

ان دنوں بھی اسی گروپ نے درالحکومت سے دور سیف الاسلام کو اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے اور سابقہ باغی گروپ اسے طرابلس بھجنے کو بھی تیار نہیں ہے۔

عالمی عدالت کی پراسیکیوٹر کا اس حوالے سے موقف تھا کہ ''قانون کے سامنے سیاسی ترجیحات کی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے لیبیا کی حکومت پر زور دے کر کہا جاتا ہے کہ سیف الاسلاام کو مزید تاخیر کیے بغیر عدالت کے حوالے کیا جائے۔''

اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر ابراہیم دباشی کا کہنا ہے کہ'' ہمارے عوام انصاف ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور لیبیائی حکومت لیبیا سے باہر اس معاملے میں انصاف ہوتے نہیں دیکھتی ہے۔''

سفیر کے مطابق '' اگر ایسا کیا گیا تو اس سے لیبیا میں سماجی امن متاثر ہو سکتا ہے، نہ صرف یہ بلکہ سیف الاسلام اور قذافی دور کے انٹیلی جنس چیف کی حوالگی ان کی جانوں کیلیے خطرناک ہو سکتی ہے۔''

جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت کی پراسیکیوٹر نے اس حوالے سے لیبیا کے ساتھ جزوی اتفاق کر لیا ہے تاہم کہا ہے کہ جیلوں میں پڑے قیدیوں کے خلاف جلد منصفانہ بنیادوں پر مقدمات شروع کیے جائِیں۔