.

لبنان: القاعدہ سے وابستہ گروپ"عبداللہ عزام" بریگیڈ کا اہم کمانڈر گرفتار

ملزم دہشت گردی کی کارروائیوں میں کئی سال سے مطلوب تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج نے شدت پسند تنظیم القاعدہ سے وابستہ گروپ"عبداللہ عزام" بریگیڈ کے ایک سینیئر کمانڈرجمال محمد مسلم المدنی دفتر دار کو مغربی وادی بقاع میں ایک مکان پر چھاپے کے دوران حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 دسمبر2013ء کو بیروت کے جنوب میں صیدا شہر میں ہوئے دھماکوں میں بھی دفتر دار اور اس کے ساتھیوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق لبنانی انٹلی جنس حکام نے بدھ کو خفیہ اطلاع پر وادی بقاع کے ایک مغربی قصبے میں ایک مکان پر چھاپہ مارا، اور وہاں پر چھپے اشہتاری دہشت گرد جمال دفتر دار کو حراست میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران دفتر دارکے ایک دوسرے ساتھی نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی لیکن جوابی فائرنگ میں وہ خود مارا گیا تاہم اس میں آپریشن میں لبنانی فوج کو کسی قسم کا جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ وسط دسمبر کو جنوبی بیروت میں صیدا کے مقام پر ہونے والے بم دھماکوں میں بھی جمال دفتر دار اس کی تنظیم ملوث تھی۔ ان دھماکوں میں ایک فوجی اہلکار سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم "عبداللہ عزام" بریگیڈ کا کمانڈر جمال محمد مسلم المدنی دفتر دار شمالی لبنان کے شہر طرابلس کا رہنے والا ہے۔ وہ سنہ 2008ء کو لبنان کی ایک عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد روپوش ہو گیا تھا۔ جمال دفتر دار کو عدالت کی جانب سے اپنے گروپ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے دھماکہ خیز مواد منتقل کرنے، دہشت گردی کے لیے دوسرے لوگوں کو اپنی تنظیم میں بھرتی کرنے اور غیر قانونی فنڈز جمع کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

لبنانی عدالت نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے جرم میں مئی سنہ 2008ء میں جمال دفتر دار اور اس کے کئی ساتھیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ان پر سنہ 2007ء میں شمالی لبنان مین نہر البارد کیمپ میں لبنانی فوج اور "فتح الاسلام" نامی گروپ کے درمیان لڑائی میں عسکریت پسندوں کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ انہی کارروائیوں کی پاداش میں امریکا نے سنہ 2009ء میں عبداللہ عزام بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

عبداللہ عزام بریگیڈ کے کمانڈر کی گرفتاری لبنانی فوج کی تین ہفتوں میں دوسری بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ قبل ازیں 26 دسمبر کو فوج نے ایک کارروائی میں تنظیم کے سعودی نژاد کمانڈر ماجد الماجد کو حراست میں لیا تھا تاہم وہ دوران حراست ہی انتقال کرگیا۔ حکام کے مطابق کمانڈر الماجد کی موت گردے فیل ہونے کے باعث واقع ہوئی تھی۔