اسرائیلی جنرل کا ترکی میں القاعدہ کے اڈوں کی موجودگی کا انکشاف

ترکی میں موجود جنگجو بآسانی یورپ تک جا سکتے ہیں:سکیورٹی کانفرنس میں تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

صہیونی ریاست اسرائیل کے فوجی سراغرساں ادارے کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء القاعدہ سے وابستہ بعض باغی جنگجوؤں نے ترکی میں اپنے اڈے قائم کررکھے ہیں اور وہاں سے انھیں بآسانی یورپ تک رسائی مل سکتی ہے۔

میجر جنرل ایویو کوشاوی نے بدھ کو تل ابیب میں منعقدہ ایک سکیورٹی کانفرنس میں کہا کہ ''دنیا بھر سے آنے والے القاعدہ کے جنگجو ہر ہفتے شام میں داخل ہوتے ہیں لیکن وہ وہاں نہیں رکتے''۔انھوں نے اپنی تقریر کے دوران مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ بھی دکھایا جس میں ترکی میں القاعدہ کی موجودگی اور اس کے تین ٹھکانوں کی نشان دہی کی گئی تھی۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن متعدد مرتبہ اس بات کی تردید کرچکے ہیں کہ ان کا ملک شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں کو کوئی پناہ فراہم کررہا ہے۔ترک وزارت خارجہ کے ترجمان نے فوری طور اسرائیلی جنرل کے انکشاف پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی جنرل نے اپنی تقریر میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کی کوئی مخصوص تعداد نہیں بتائی۔ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پیش کردہ نقشے میں القاعدہ کے ٹھکانوں کی نشان دہی کی گئی ہے اور یہ ترکی کے تین صوبوں کرمان ،عثمانیہ اور سنلیورفہ میں واقع ہیں''۔

جنرل کوشاوی نے انسٹی ٹیوٹ برائے قومی سلامتی مطالعات تل ابیب کے زیراہتمام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''شام اپنے تنازعے کو پورے خطے میں پھیلا رہا ہے۔ترکی میں جن جگہوں کی نشان دہی کی گئی ہے یہ گرافک آرٹسٹ کی کوئی غلطی نہیں ہیں اور یہ ان (القاعدہ جنگجوؤں ) کا یورپ میں داخل ہونے کا سب سے مختصر راستہ ہے''۔

واضح رہے کہ ترکی شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں تک امدادی سامان اور اسلحہ پہنچانے کے لیے سہولت دیتا رہا ہے اور اس نے خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے ہزاروں لاکھوں شامیوں کو ملک سے باہر نکالنے اور دوسرے پڑوسی ممالک کی جانب جانے میں مدد دی ہے۔اس نے باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کو ترکی میں حربی تیاریوں اور اپنے تنظیمی ڈھانچے کو منظم کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔

لیکن شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار القاعدہ سے وابستہ دوگروپوں النصرۃ محاذ اور دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی وجہ سے ترکی کو تنقید کا سامنا ہے اور اس پر یہ الزام عاید کیا جارہا ہے کہ وہ سخت گیر اسلام پسندوں کی حمایت کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں