لبنان میں مقیم شامی مہاجر بچوں کو قحط کے خطرے کا سامنا
لبنان میں مہاجرکیمپوں میں مقیم قریباً دو ہزار بچوں کو اس وقت خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اگر انھیں فوری طور پر خوراک مہیا نہ کی گئی تو وہ موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کے ادارے یونیسیف کی بیروت میں نمائندہ اناماریہ لورینی کا کہنا ہے کہ ''کم خوراکی لبنان میں رہنے والے شامی مہاجرین کے لیے ایک نیا خاموش خطرہ ہے''۔
انھوں نے منگل کو یونیسیف کی ایک رپورٹ کے اجراء پر بتایا کہ ''اس مسئلے کا تعلق ناقص حفظان صحت ،پینے کے غیر مصفیٰ پانی،مہلک اور وبائی امراض سے تحفظ کی دوائیں استعمال نہ کرنا اور بچوں کو نامناسب طریقے سے خوراک کی فراہمی سے ہے''۔
واضح رہے کہ اس وقت لبنان میں قریباً دس لاکھ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں اور ان میں دو لاکھ بچے ہیں۔لبنان کی اپنی آبادی صرف چالیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس کے لیے مہاجرین کے اس بوجھ کو برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے۔
یونیسیف نے اکتوبر اورنومبر میں شامی مہاجرین کے کیمپوں میں خوراک کی فراہمی کے حوالے سے ایک مطالعہ کیا تھا اور اس کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ قریباً دوہزار بچے کم خوراکی کا شکار ہیں اور اگر انھیں فوری طور پر خوراک مہیا کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو وہ موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ اس نے سیکڑوں شامی بچوں میں خوراک کی قلت دور کرنے کے لیے کام شروع کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لبنان کے مشرق اور شمال میں واقع مہاجرین کے کیمپ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں 2012ء اور 2013ء میں کم خوراکی کا شکار بچوں کی تعداد دگنا ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مزید مہاجرین کی آمد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے صورت حال اور بھی ابتر ہوسکتی ہے۔یونیسیف کے صحت اور نیوٹریشن کے شعبے کے سربراہ ضرول عزالدین نے بتایا کہ پانچ سال سے کم عمر بچے کم خوراکی کا سب سے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ''خوراک کی قلت کا شکار بچوں کو بھوک نہیں لگتی ہے،وہ کچھ بھی کھانا نہیں چاہتے کیونکہ کم خوراکی سب سے پہلے دماغ کو متاثر کرتی ہے۔اگر بچہ مسکرا بھی رہا ہو ،کھیل رہا ہو تو بھی کم خوراکی خاموشی سے دماغ پر حملہ آور ہورہی ہوتی ہے''۔
انھوں نے بتایا کہ ''اگر بچوں میں کم خوراکی کی شرح پندرہ فی صد تک پہنچ جائے تو صورت حال ہنگامی ہوجائے گی مگر اس وقت یہ شرح چھے فی صد ہے اور دراصل بحران کا حقیقی آغاز ہے''۔
-
یہ یرموک کیمپ ہے،مکین کو یاد نہیں آخری کھانا کب کھایا تھا
شامی دارالحکومت کے نواح میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ میں بھوک کے ڈیرے
مشرق وسطی -
2014ء کے اختتام تک شامی مہاجرین کی تعداد دُگنا ہو جائے گی
شامی مہاجرین کو امدادی سامان دینے کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالرز درکار ہوں گے
مشرق وسطی -
شامی مہاجرین کے لیے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے بلغاریہ میں فنڈ ریزنگ
چار ہزار شامی پناہ گزین ملک میں کسمپرسی کا شکار ہیں
بين الاقوامى -
ہزاروں شامی مہاجرین کی نئی سرحدی گذرگاہ سے عراق آمد
مصر میں شامی مہاجرین مشکل صورت حال سے دوچار ہیں: ترجمان یو این ایچ سی آر
مشرق وسطی -
سعودی شاہ کی شامی مہاجرین کے لیے ایک کروڑ ڈالرز کی امداد
شدید سرد موسم میں اردن میں مہاجرین مشکلات سے دوچار
مشرق وسطی -
شامی مہاجرین کے کیمپ میں آتشزدگی، 10 افراد جاں بحق
دمشق کی جنوبی کالونیوں میں زوردار دھماکے
مشرق وسطی