جامعہ بیرزیت پر اسرائیلی فوج کا دھاوا، غزہ پر بمباری

"حماس کے کارکنوں سے 'انسانی بم' کے طور پر ڈیل کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطین میں ایک ہفتہ قبل پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے تین یہودی لڑکوں کی تلاش کے لیے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کا ظالمانہ کریک ڈاؤن جاری ہے۔ "العربیہ" کے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کو علی الصباح اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں جامعہ بیرزیت پر اچانک دھاوا بول دیا۔

ادھرغزہ کی پٹی کے شمال اور مغرب میں مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ تاہم بمباری سے ہونے والے کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ بمباری میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی کنارے میں کل بدھ کے روز مختلف شہروں میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں میں مزید 60 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں سنہ 2011ء میں حماس سے معاہدے کے تحت رہا کیے گئے 51 شہری بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2011ء میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی سپاہی گیلاد شالیت کے بدلے صہیونی جیلوں سے 1050 فلسطینی رہا کرائے تھے۔

درایں اثناء اسرائیل کے عبرانی ریڈیو نے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ حکومت نے حراست میں لیے گئے فلسطینیوں سے تفتیش کے دوران پوچھ گچھ کے لیے سیکیورٹی اداروں کو تمام سخت ہتھکنڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مشیر قانون یہودا فائنسٹائن کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو حراست میں لیے گئے حماس کارکنوں سے "انسانی بم" کے طور پر ڈیل کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔ نیز سیکیورٹی حکام کو تفتیش کے لیے تمام اضافی وسائل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں حراست میں لیے گئے فلسطینیوں سے دوران تفتیش وحشیانہ تشدد کیا جاتا رہا ہے جس انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے اسرائیل کو کڑی تنقید کا بھی سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ جمعرات سے لاپتا یہودی آباد کاروں کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن میں اب تک 240 فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد مین 65 مشتبہ افراد بھی شامل ہیں جن پریہودی آباد کاروں کو یرغمال بنائے جانے کا شبہ ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے سے جاری "میراتھن" سرچ آپریشن کے دوران صہیونی فوج کی جانب سے حماس کے معاشی و سماجی ادارے "الدعوہ" کے زیرانتظام 800 اہم عمارتوں کی چھان بین مکمل کی جا چکی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل پیٹر لیرنر کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دو اہم مقاصد ہیں۔ ایک مقصد لاپتا یہودی آباد کاروں کا سراغ لگانا اور دوسرا حماس کا نیٹ ورک تباہ کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں مغربی کنارے میں حماس کے زیر انتظام "الاقصیٰ" ٹیلی ویژن چینل کی نشریات بند کردی گئی ہیں اور حماس کے کئی اہم اداروں کو فوج نے اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں