جنگ میں جھونکنے کے لیے ننھے شامیوں کی فوجی تربیت

اقدام کا مقصد فوج کی افرادی قوت میں کمی کو دور کرنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں سرکاری سپاہ میں پھوٹ پڑنے کے بعد صدر بشار الاسد کو فوج کی افرادی قوت کی سخت قلت کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کے لیے اسکول کے اٹھارہ سال کے کم عمر بچوں کو کھلے عام عسکری تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق شامی فوج کے افسران خود اسکولوں میں جا کر ٹریننگ کیمپ لگاتے،انہیں باغیوں کے خلاف مسلح کارروائیوں پر اکساتے ہیں اور اُنہیں اسلحہ چلانے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم عمر طلباء و طالبات کے لیے شامی فوج میں'البعث بریگیڈ" کے نام سے الگ یونٹ بھی قائم کر دیا گیا ہے، جس میں 18 سال سے کم عمر کے جنگجوؤں کو عسکریت تربیت دینے کے بعد رکھا جاتا ہے۔ اس بریگیڈ کے نگران فوجی افسر سرکاری اسکولوں میں جا کر بچوں کو حکومت مخالف مسلح تحریک خلاف فوج کے تعاون پر اکساتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو فوج میں بھرتی کرنے اور ان سے عسکری خدمات لینے کو انقلابی یوتھ یونین پروگرام کا نام دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی براہ راست نگرانی شامی فوج کے سینیئر افسران کر رہے ہیں۔

حال ہی میں اس یونٹ میں 450 نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو بھرتی کیا گیا جن کی دس روزہ تربیت کے لیے کرنل ابراہیم الفروی اور انقلاب یوتھ یونین کے رکن مازن شاہین کو مامور کیا گیا ہے۔ دوران تربیت کم عمر بچوں اور بچیوں کو باضابطہ فوجیوں کی ٹریننگ کے بعد دوسرے صفوں میں رکھا جاتا ہے۔

دمشق یوتھ نیشنل فورس کی تیاری کے دوران چند روز قبل دارالحکومت میں قائم عادلہ الجزائری اسکول کے طلباء وطالبات کو ٹریننگ میں شامل کیا گیا۔ انقلاب یوتھ یونین کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں بچوں کی عسکری تربیت کے لیے کیمپ لگانے کا مقصد ملک کو درپیش شورش سے نمٹنے کے لیے نئی نسل کو تیار کرنا ہے۔

کرنل مازن شاہین کا کہنا تھا کہ اسلحہ کی تربیت شامی قوم کی ثقافتی روایات کا حصہ ہے اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت دو چند ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں لگائے گئے تربیتی کیمپوں میں طلباء وطالبات کو گولی چلانے اور ہلکے ہتھیاروں کو کھولنے اور جوڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں