حلب میں سلیمان شاہ کے مزار کا تحفظ کریں گے: ترکی

مزار کے لیے اپریل میں ہی فوجی بھیج دیے تھے: نائب وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

داعش سے وابستہ عسکریت پسند ان دنوں ترک فوجیوں کے زیر حفاظت سلیمان شاہ کے مزار کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ترکی میں خلافت عثمانیہ کے بانی خلیفہ عثمان کے دادا کا یہ مزار شام میں حلب سے متصل ہے۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم کے مطابق اس اہم اور تاریخی شخصیت کے مزار کی حفاظت کے لیے ترکی نے ماہ اپریل میں اپنے فوجی روانہ کیے تھے۔

واضح رہے سلیمان شاہ 1178 میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال 1227 میں ہوا تھا۔ بعض مورخین کا کہنا ہے ان کا انتقال 1236 میں ہوا تھا اور حلب میں دریا کے کنارے ان کا مقبرہ تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ علاقہ ترکی اور شام کی سرحد سے تقریبا تیس کلومیٹر اندر شام کی طرف ہے۔ نائب وزیر اعظم ترکی نے اس مقبرے کی حفاظت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا عراق اور شام میں فوجی کارروائی کے لیے ترک پارلیمنٹ کا مینڈیٹ ان تمام خطرات کے لیے کافی ہو گا جو اس مزار کو لاحق ہو سکتے ہیں۔

ترکی نے عراق اور شام دونوں کے ساتھ طویل سرحد کے باوجود ابھی تک داعش کے خلاف عالمی اتحادیوں کی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست بننے سے انکار کر رکھا ہے۔

ترکی کا موقف ہے کہ ایسا فوجی اقدام بشارالاسد کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنے گا۔ نیز اس سے کرد عسکریت پسند بھی زور پکڑ لیں گے۔ ترکی صرف فضائی کارروائیوں کو بھی ناکافی خیال کرتا ہے کہ 1200 کلو میٹر جنوبی سرح سرحد کی طویل بد امنی کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔

دوسری جانب ترک پارلیمنٹ داعش کے خلاف مہم کا حصہ بننے یا نہ بننے کے بارے میں فیصلہ کل جمعرات کے روز کرنے جا رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی طرف سے منظوری کی صورت میں ترک فوج کو کردوں کے علاوہ عراق اور شام میں کارروائی کا اختیار مل سکتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کے روز استنبول میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کے دوران داعش سے لڑنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا '' ہم اس مہم سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے ہیں۔''

طیب ایردوآن نے اکیلے امریکی فضائی کارروائیوں کو بھی ناکافی قرار دیا تھا اور داعش کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے زمین پر کارروائیوں پر بھی زور دیا تھا۔''

طیب ایردوآن نے داعش کے ساتھ ساتھ کرد عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے پر بھی زور دیا تھا۔ خیال رہے کردوں کی بغاوت سے نمٹنے کے لیے ترک فوج کو طویل لڑائی لڑنا پڑ چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں