.

ایران کا 'آئی اے ای اے' پر جوہری پروگرام کی جاسوسی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے الزام عاید کیا ہے کہ عالمی توانائی ایجنسی"آئی اے ای اے" کے معائنہ کار اپنے دورہ تہران کے دوران جوہری پروگرام کی جاسوسی کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی" مہر" کے مطابق 'آئی اے ای اے' میں ایران کے سفیر رضا نجفی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاری کو شبے کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ عالمی ادارے کے معائنہ کاروں میں کچھ ایسے عناصر شامل ہیں جو ایران میں تہران کے جوہری پروگرام کی معائنے کےلیے نہیں بلکہ اس کی جاسوسی کے لیے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے آئی اے ای اے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ معاینہ کاری کی آڑ میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے راز چوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی سفیر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی اے ای اے کا ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد پیش آئند ہفتے ایران کے دورے پر تہران پہنچ رہا ہے۔عالمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ٹیرو فارویورنٹا کا کہنا ہے کہ ماہرین کا ایک وفد اگلے چند روز میں ایران کا دورہ کرے گا جو تہران کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ادارے کو مطلع کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی"رائیٹرز" کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کا وفد ایک ایسے وقت میں ایران جا رہا ہے کہ جب تہران حکومت کو ادارے پر سخت تحفظات ہیں۔ ایسے میں عالمی ایجنسی پر جاسوسی کے شکوک وشبہات میں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

پچھلے ماہ ستمبر میں عالمی توانائی ایجنسی کے چیئرمین یوکیا امانو نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک وشبہات کا واضح جواب دے۔ ایک نیوز کانفرنس میں مسٹر امانو نے انکشاف کیا تھا کہ ایران نے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے میں عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایٹمی پروگرام کی گہرائی تک جانچ پڑتال کرنے کی اجازت دی ہے۔

گوکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام جنگی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ وہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس پروگرام پر کام کر رہا ہے تاہم عالمی توانائی ایجنسی نے ایک ہزار صفحات پر محیط ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے اس کے فوجی مقاصد کی اشارے مل رہے ہیں۔