.

اسرائیل: یہودی بستی امونا کو گرانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک اعلیٰ عدالت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی آباد کاروں کی ایک بستی کو گرانے کا حکم دیا ہے۔

اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے ریاست کو حکم دیا ہے کہ وہ یہودی بستی امونا کے تمام ڈھانچے کو ڈھانے کے لیے احکامات پر عمل درآمد کرے۔عدالت نے اس بستی میں آباد خاندانوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کے لیے دو سال کا رعایتی وقت دیا ہے۔

امونا میں قریباً پچاس یہودی آباد کار خاندان رہ رہے ہیں اور یہ بستی غرب اردن کے شہر رام اللہ کے نزدیک فلسطینی سرزمین پر بنائی گئی تھی۔اس کے خلاف فلسطینیوں نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا اور وہ بالآخر یہ کیس جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی عدالتیں اس سے قبل بعض دوسری یہودی بستیوں کو بھی ڈھانے کے احکامات جاری کر چکی ہیں۔فیصلے میں دوسری عدالتوں میں امونا بستی میں پلاٹوں کی ملکیت سے متعلق کیسوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے اس یہودی بستی کو ڈھانے کے حکم سے چند روز قبل ہی اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے 380 نئے مکانوں کی غیر قانونی تعمیر کی منظوری دی تھی لیکن اسرائیلی عدالتیں بالعموم ایسے مکانوں اور بستیوں کو ڈھانے کا حکم دے دیتی ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اوربعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

فلسطینی غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی مہم شروع کررکھی ہے۔ان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے ایک ڈیڈ لائن مقرر کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کردے۔