.

یمن میں کار بم دھماکا، 33 افراد ہلاک

دارالحکومت صنعاء کے وسط میں پولیس کالج کے کیڈٹس پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا کے وسط میں واقع پولیس کالج کے باہر تباہ کن کار بم دھماکے میں تینتیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار نے بدھ کی صبح اپنی بارود سے بھری گاڑی پولیس کالج کے سامنے کیڈٹس کے درمیان دھماکے سے اڑا دی ہے۔اس نے پولیس کالج کے زیر تربیت رنگروٹس ہی کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔وہ اس کے وقت اپنے ناموں کے اندراج کے لیے کالج کے باہر جمع تھے۔

دھماکے کے بعد کالج کے سامنے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور جسمانی اعضاء شاہراہ پر دور دور تک بکھرے پڑے تھے۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پورے شہر میں دور دور تک سنی گئی ہے۔صنعا پولیس کے سربراہ عبدالرزاق المعید نے واقعے میں تینتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ماضی میں یمن میں القاعدہ کی شاخ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ پر اس طرح کے حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے اور یہ تنظیم بھی اس طرح کے حملوں کی ذمے داری قبول کرتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں امن و امان کی صورت حال دوہزار گیارہ سے مخدوش ہے۔اس ملک میں القاعدہ کی شاخ کے علاوہ حوثی شیعہ باغی بھی سرگرم ہے اور انھوں نے ستمبر سے صنعا اور ملک کے شمالی علاقوں میں اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔اس کے بعد سے خودکش بم حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مغربی اور خلیجی ممالک خوفزدہ ہیں کہ القاعدہ کی ان کارروائیوں کا دائرہ پھیل کر یمن سے باہر بھی جا سکتا ہے۔

سال رواں کے پہلے روز یکم جنوری کو بھی ایسے ہی ایک خود کش دھماکے میں چھبیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ خود کش دھماکا کلچرل سنٹر میں ہوا تھا۔