.

اسرائیل :14 ہزار ٹن تعمیراتی سامان غزہ لے جانے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں مکانوں اورسرکاری عمارتوں کی تعمیرنو کے لیے چودہ ہزار ٹن وزنی تعمیراتی سامان لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔

فلسطینی علاقوں کے بارے میں اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے رابطہ کار ادارے نے بتایا ہے کہ تعمیراتی سامان سے لدے ہوئے تین سو چوّن ٹرک کیرم شالوم گذرگاہ سے غزہ کی پٹی میں داخل ہوگئے ہیں۔

اسرائیل نے گذشتہ آٹھ سال سے غزہ کی پٹی کی برّی اور بحری ناکا بندی کررکھی ہے۔اس عرصے کے دوران اسرائیلی حکومت نے سرحدی گذرگاہوں سے سیمنٹ اور لوہے کو لے جانے پر پابندی عاید کیے رکھی ہے۔ صہیونی ریاست کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ فلسطینی مزاحمت کار تعمیراتی سامان کو مصر کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں زیر زمین سرنگوں کی تعمیر کے لیے استعمال کر سکتے ہیں یا ان سے ہتھیار تیار کرسکتے ہیں۔

لیکن عالمی برادری بار بار خبردار کرتی چلی آرہی ہے کہ اگر اسرائیل نے تباہ شدہ ہزاروں مکانوں اور اسکولوں کی تعمیرنو کے لیے سامان لے جانے کی اجازت نہ دی تو ایک اور تنازعے کا خطرہ موجود رہے گا۔اسرائیلی فوج کی غزہ کے شہروں اور دیہات میں گذشتہ سال جون سے اگست تک تباہ کن بمباری کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ مکانات تباہ ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ سال جنگ سے متاثرہ قریباً ایک لاکھ فلسطینی ابھی تک بے گھر ہیں اور وہ عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں۔ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں قریباً بائیس سو فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے جوابی راکٹ حملوں یا ان کے ساتھ جھڑپوں میں تہتر اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں چھے شہری اور سڑسٹھ فوجی تھے۔