داعش تاریخی شہر’’تدمر‘‘ سے محض دو کلو میٹرکی مسافت پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سخت گیر تنظیم دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ اور سرکاری فوج کے درمیان ملک کے وسط میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور داعش تاریخی شہر ’’تدمر‘‘ سے محض دو کلومیٹر کی دوری پر آپہنچی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی ’’آبزویٹری‘‘ کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ ’تدمر‘ میں لڑائی کے دوران دونوں طرف کم سے کم 110 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں اور شہر سے 1800 خاندان محفوظ مقامات کی تلاش کے لیے گھربار چھوڑ چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے مندوب رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ حمص گورنری کے شہر '’تدمر‘‘ میں داعش کے جنگجو داخل ہونے والے ہیں، کیونکہ اب وہ صرف دو کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تدمر شہر کی مشرقی سمت میں جھڑپیں جاری ہیں۔ شہر کے مشرقی سمت ہی کی کالونیوں میں شامی فوج کے خاندان بھی آباد ہیں۔ لڑائی شروع ہونے کے بعد بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

حمص کے گورنر طلال البرازی نے بتایا کہ شہرمیں تین پناہ گزین مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں تدمر کے بعض علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے 1800 خاندانوں کو بھی رکھا جائے گا۔

درایں اثناء تاریخی شہر ’’تدمر‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل برائےآثارقدیمہ مامون عبدالکریم نے عالمی برادری سے تاریخی شہر کو داعش کی یلغار سے بچانے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں مامون عبدالکریم نے کہا کہ داعشی دہشت گرد شہرمیں داخل ہونے کے لیے پرتول رہے ہیں۔ اگر وہ ’’تدمر‘‘ میں داخل ہوگئے تو شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور شہر کا تاریخی ورثہ تباہ کردیں گے۔ اس لیے میں عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ’’تدمر‘‘ کو بچانے کے لیے ہماری مدد کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کے تاریخی شہروں نمرود اور الخضر کی تباہی کے بعد اب داعش ’’تدمر‘‘ کو بھی تاراج کرنا چاہتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت’’یونیسکو‘‘ کی خاتون ڈائریکٹر ایرینا بوکوفا نے بھی شام میں متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ لڑائی کے دوران تاریخی مقامات کا تحفظ یقینی بنائیں۔ انہوں نے جہا کہ شام کے صحرائی تاریخی مقامات میں ’’تدمر‘‘ اہم ترین تاریخی مقام ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ تاریخی شہر کو اب داعش کی جانب سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ’’تدمر‘‘شہر میں شامی فوج اور داعشی جنگجوئوں کے درمیان تازہ جھڑپیں منگل کے روز شروع ہوئی تھیں۔ بدھ کے روز داعشی جنگجوئوں نے شہرکے السخنہ قصبے پرقبضہ کرلیا تھا۔ یہ قصبہ دیرالزور گورنری کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پرواقع ہے، اس پر قبضے کے بعد داعش نے نہ صرف اہم شاہراہ پرکنٹرول حاصل کرلیا بلکہ تیزی کے ساتھ پیش قدمی کی راہ بھی ہموار کرلی۔ لڑائی میں شامی فوج کے چھ سینیر افسروں سمیت 70 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دوسری طرف داعش کے دو اہم کمانڈروں سمیت 40 جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ ’’تدمر‘‘ شہر شام کے ان چھ اہم تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جسے اقوام متحدہ نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر رکھا ہے۔ دوسرے اہم تاریخی مقامات میں حمص کا قلعہ الحصن، پرانا دمشق شہر اور شمالی حلب شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں