جوہری تنازع، عالمی طاقتیں ایران کے سامنے جُھک گئیں: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے الزام عاید کیا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ اس کے متنازع جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایران کی منشاء کے مطابق چل رہی ہیں تاکہ 30 جون کو طے شدہ ڈیڈ لائن کے اندر اندر معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کے تابع ہوچکی ہیں اور تہران کے خطرے سے بھرپور جوہری پروگرام کے معاملے میں غیرمعمولی پسپائی کا مظاہرہ کر کے تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کا موقع دے رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران سے مذاکرات کے بجائے جوہری پروگرام کی وجہ سے پابندیوں کا شکنجہ مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایران کی مشکوک جوہری تنصیبات کا معائنہ سخت کیا جانا چاہیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیراعظم ہائوس کی جانب سے جاری ایک بیان میں نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا عمل ایران کو ان وسائل کے حصول سے روکنے میں مدد گار نہیں ہو سکتا جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ معاہدے کی شکل میں اگر ایران پر عاید عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھ گئیں تو تہران نہ صرف جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں تیز کردے گا بلکہ خطے میں ایران نواز گروپوں کی مالی معاونت کے راستے بھی کھل جائیں گے۔

بنجمن نیتن یاھو کا یہ بیان عبرانی ریڈیو پر نشر کیا گیا جس میں اُنہوں نے کہا کہ "عالمی طاقتوں کی جانب سے ایران سے مذاکرات کے سلسلے میں جو رپورٹس سامنے آ رہی ہیں وہ افسوسناک ہیں کیونکہ بہ ظاہر عالمی طاقتیں ایرانی عناد کے سامنے غیرمعمولی پسپائی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔" تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے سوائے تنقید کے اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں دیا کہ آیا عالمی طاقتیں کس طرح ایران کے سامنے پسپا ہورہی ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر برائے توانائی یووال اشٹائنٹز نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی طاقتیں متنازع جوہری تنصیبات کے معائنے کے حوالے سے ایران کی مزاحمت قبول کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف ایران اپنی جوہری تحقیقات اور یورینیم افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز کی تیاری کا عمل جاری رکھنے پر مصر ہے۔

اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات کے جلو میں ایرانی صدر حسن روحانی کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ عالمی معائنہ کاروں کو کسی ایسے معائنے کی اجازت نہیں دیں گے جو قومی راز چوری کرنے کا باعث بنے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں جوہری پروگرام پر عالمی برداری سے معاہدے میں کوئی جلدی نہیں ہے۔ ایران وہی معاہدہ قبول کرے گا جو ایرانی قوم کے مفاد میں ہوگا۔

اسرائیلی وزیر یووال اشٹائنٹز کاکہنا تھا کہ عالمی طاقتیں بالخصوص گروپ چھ میں شامل امریکا، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کا کوئی عبوری حل تلاش کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک کمیٹی کی تشکیل پر بھی غور ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس طرح کا کوئی عبوری حل عالمی طاقتوں کو وقتی طورپر مطمئن کرسکتا ہے مگر اس سے ایران کی جوہری سرگرمیوں کومحدود کرنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ ایران بعض جوہری تنصیبات کی جگہیں تبدیل کرسکتا ہے یا انہیں عالمی معائنہ کاروں سے خفیہ رکھ سکتا ہے۔

پچھلے ہفتے امریکا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنر مارٹن ڈمپسی نے اپنے دورہ اسرائیل کے موقع پر تل ابیب کو اپنی غیرمشروط فوجی معاونت جاری رکھنے کا یقین دلایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے سے اسرائیل کو خطرہ نہیں ہوگا۔ امریکا تل ابیب کی غیر متزلزل حمایت اور مدد جاری رکھے گا۔

مبصرین کے خیال میں اسرائیل کا ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے واویلا کوئی نیا نہیں ہے۔ پوری دنیا میں یہ تاثر عام ہے کہ اسرائیل خود ایک غیراعلانیہ جوہری طاقت بن چکا ہے جو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں