.

ضدی نوجوانوں کی سزا کے لیے داعش کاعوامی قفس!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ظلم کی دہری چکی میں پستے عوام کی مظلومیت کی داستانیں اس وقت پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہیں۔ "داعش" اور شامی فوج کے مظالم سے جان بچا کر دوسرے ملکوں کو فرار ہونے والے لاکھوں پناہ گزینوں الگ داستان ہے اور جو کچھ شام کے اندر ہو رہا ہے وہ الگ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی شہر الرقہ داعش کا مرکز ہے اور پچھلے دو سال سے وہاں پر داعش کی حکومت قائم ہے۔ الرقہ میں کیا ہو رہا ہے۔ اس بارے میں بیرونی دنیا بہت کم جانتی ہے کیونکہ وہاں کے ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا داعش کے خوف سے ایسی کوئی بات سامنے لانے کی جرات نہیں کرتے کیونکہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کچھ سر پھرے نوجوان بعض اوقات اپنی جان پر کھیل کر داعش کے بعض کالے کرتوتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حال ہی میں الرقہ میں سوشل میڈیاکے ذریعے داعش کے ایک بڑے پنجرہ نما قید خانے کی تصویر سامنے آئی ہے۔ یہ قید خانہ ان لوگوں کے لیے ہے جو روز مرہ کے معمولات میں داعش کے وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ مثلا خواتین سے مشابہت اختیار کرنے، نماز میں تاخیر کرنے، داڑھی منڈوانے، سگریٹ نوشی کرنے یا اس نوعیت کے دیگر 'جرائم' کا ارتکاب کرنےوالوں کو پکڑ کر ان پنجروں میں ڈال دیا جاتا ہے۔

الرقہ کے اس موبائل قید خانے کی تصویر ایک مقامی نوجوان اپنے فرضی سوشل اکائونٹ پر جاری کی ہے۔ دو سال قبل جب داعش نے الرقہ پر قبضہ کیا تو ہزاروں لوگ وہاں سے نقل مکانی کرگئے تھے مگر مذکورہ نوجوان اور اس کا خاندان وہاں سے نہیں نکلے۔

سوشل میڈٰیا پر مشہور ہونے والی تصویر میں قفس نما قید خانے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ مغربی الرقہ میں الطبقہ کے مقام پر واقع ہے اور یہ شہر میں سب سے بڑا عوامی قید خانہ ہے۔

ایک دوسرے نامعلوم شہری نے مسکنہ کے مقام پر ایک ایسے ہی قید خانے کی فوٹیج اپنے اکائونٹ پر پوسٹ کی ہے۔ جس میں متعدد لوگوں کو بند کیے دکھایا گیا ہے۔