.

ایران کے بلوچ سُنی جنگجوئوں کی شام میں ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ شام کے محاذ جنگ پر لڑائی کے دوران حال ہی میں 7 ایرانی جنگجو ہلاک اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے ایرانی جنگجوئوں میں سے بعض کا تعلق ایران کے سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان سے ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی"آمد نیوز" کے مطابق شام کے شورش زدہ شہر حلب میں 24 نومبر کو باغیوں کے ساتھ لڑائی میں کم سے کم سات ایرانی جنگجو مارے گئے ہیں۔ مرنے والوں کا تعلق ایران کے سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان سے ہے۔ ان میں بعض اہل سنت مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ شام کی جنگ میں ایرانی، پاکستانی اور افغان شیعہ جنگجوئوں کی بھرتی کی خبریں ماضی میں بھی آتی رہی ہیں مگر اہل سنت مسلک کے لوگوں کو شام کی جنگ میں جھونکے جانے کی اطلاعات پہلی بار سامنے آئی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نے چوبیس نومبر کو حلب میں ہلاک ہونے والے ایرانی شیعہ جنگجوئوں کی شناخت محسن سجادی، اصغر بامری، نظر محمد بامردی، پرویز بامری اور سلمان بامری کے ناموں سے کی ہے جب کہ اسی معرکے میں بلوچستان قومیت سے تعلق رکھنے والے سنی جنگجو معر ملا زئی اور مراد عبداللہی ہلاک ہوئے ہیں۔ سنی جنگجوئوں کی نعشیں صوبہ بلوچستان میں ان کے آبائی شہروں دلکان اور سرباز میں لائی گئیں جہاں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔

حلب میں باغیوں کے حملے میں زخمی ہونے والے شیعہ اور سنی جنگجوئوں کی شناخت رحمان محمد زئی، امان اللہ محمد زئی، ساربان محمد زئی، مراد بامری،مراد بہزادی، جمعہ احمدیان، مہدی عبداللہی، الیاس بہزادی اور نواب بامری کے ناموں سے کی گئی۔

خیال رہے کہ ایرانی پاسداران انقلان سنہ 2011ء سے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت بچانے کے لیے سرکاری اور نیم سرکاری جنگجوئوں کو شام کے محاذ جنگ کے لیے بھرتی کرتا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارن انقلاب نے شام میں لڑائی کے لیے صوبہ بلوچستان کے 25 افراد کو اجرت پر بھرتی کیا۔ ان کی عمریں 18 اور 36 سال کے درمیان ہیں۔ انہیں ماہانہ 500 ڈالر کے مساوی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔