جنگ بندی کالعدم ہونے کو ہے :شامی حزبِ اختلاف

فرانس کا شام ٹاسک فورس کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی حزب اختلاف کے ایک عہدے دار نے خبردار کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے حملوں کی وجہ سے جنگ بندی مکمل طور پر کالعدم ہونے کو ہے۔

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اسعد الزعبی نے یہ بات العربیہ نیوز کے سسٹر چینل الحدث سے سوموار کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جنگ بندی تو ہفتے کے روز آغاز ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی تھی''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر عالمی برادری کچھ نہیں کرسکتی ہے تو ہمارے پاس اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے متبادل راستہ موجود ہے''۔تاہم انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔

اسعدالزعبی نے کہا کہ ''ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جس سے یہ پتا چلے کہ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی تیاری کی جارہی ہے''۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا نے اگلے روز 7 مارچ کو متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کی اطلاع دی تھی لیکن اس کے بعد سے اس ضمن میں کسی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

شامی حزب اختلاف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ روس کے لڑاکا جیٹ نے اتوار کے روز جنگ بندی کی پاسداری کرنے والے شام کے باغی گروپوں پر چھبیس فضائی حملے کیے تھے۔

اس خط میں روس پر رہائشی عمارتوں پر کلسٹر بم گرانے کا الزام عاید کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بہت سے شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ادھر فرانس نے شام ٹاسک فورس کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جمعہ کی شب کے بعد سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جاسکے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آیرالٹ نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں شام کے اعتدال پسند باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل فضائی حملوں سے متعلق اطلاعات ملی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''اس سب کی تصدیق کی جانی چاہیے۔اس لیے فرانس نے جنگی کارروائیاں روکنے کی نگرانی کرنے والی ٹاسک فورس کا کسی تاخیر کے بغیر اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے''۔

درایں اثناء نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فوجی اتحاد کو شام میں روس کی فوجی مہم جوئی پر تشویش لاحق ہے۔ہم نے شام میں روس کے زمینی دستے دیکھے ہیں، بحر متوسط کے مشرق میں بحری فورسز موجود ہیں اور فضائیہ کے طیارے حملے کررہا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں