نکاح کے لیے خاتون کا ’زبانی ایجاب وقبول‘ لازمی قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر برائے قانون وانصاف نے نکاح خواں حضرات کے لیے ایک نیا حکم جاری کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ نکاح کی رجسٹریشن کے وقت متعلقہ خاتون کا ’زبانی ایجاب وقبول ‘ یقینی بنائیں۔ جب تک خاتون اپنی زبان سے ایجاب وقبول نہ کرے اس وقت تک نکاح کا اندراج نہ کیا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزیر انصاف الشیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے نکاح کی رجسٹریشن کے مراکز، نکاح خواں حضرات اور فیملی کورٹس کو ہدایت کی کہ وہ نکاح کی رجسٹریشن کے دوران خواتین کے شرعی حقوق کو یقینی بنائیں۔ نکاح خواں خود خاتون سے اس کی زبانی ایجاب وقبول سنے تاکہ اس کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

وزیر انصاف کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 میں نکاح کی رجسٹریشن کے حوالے سے نکاح خواں حضرات کو عقد نکاح کی بنیادی شرائط اور ضوابط یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے جب کہ آرٹیکل 23 میں وضاحت کی گئی ہے کہ نکاح خواں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے مرد وزن کے زبانی اور تحریری بیانات لینے کے ساتھ رجسٹریشن فارم پر ان کے دستخط لازمی حاصل کرے گا۔

انہوں نے نکاح خواں حضرات پرزور دیا کہ وہ نکاح کی رجسٹریشن سے قبل خاتون کا لفظی اقرار لازمی سنیں۔ چاہے عورت مطلقہ ہو یا کنواری ہو، حتیٰ کہ اس کا ولی اس کا والد ہی کیوں نہ ہو۔ خواتین کی زبانی گواہی لازمی لی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں